.

امریکی فوج کو شام میں درپیش خطرات کا اداراک ہے: وزیر دفاع

مقامی فورسز کی مدد کے لئے شام میں امریکی دستے اتارنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے شام میں سپیشل فورسز کے دستے بھیجنے کا فیصلہ داعش کو شکست دینے میں مدد دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے مگر اس فیصلے سے امریکی افواج براہ راست خطرے کے راستے میں آگئے ہیں۔

کارٹر نے امریکی ریاست الاسکا روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارا بنیادی مقصد اور حکمت عملی مقامی فورسز کی مدد کرنا ہے مگر کیا اس اقدام سے امریکی افواج کو خطرات لاحق ہیں؟ جی یقیناً۔ اس بات میں کوئی شک نہیں۔"

رواں ماہ کے دوران ہی عراق میں داعش کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے مغویوں کو رہا کروانے کے ایک مشن میں ایک امریکی فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔ کارٹر نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ اگر اس اقدام کے مثبت اثرات نظر آئے تو مزید سپیشل فورسز کو شام میں تعینات کیا جاسکتا ہے۔

امریکی افواج کی تعیناتی

امریکی صدر براک اوباما نے شامی تنازعے کے آغاز کے بعد سے پہلی بار بحران زدہ ملک شام کے شمالی حصے میں واشنگٹن کے فوجی دستوں کی تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔

وائٹ ہائوس کے ترجمان جاش ایرنسٹ کا کہنا ہے کہ صدر اوباما نے داعش کے خلاف لڑںے والی مقامی فورسز کی مدد کے لئے شام کے شمالی علاقے میں 50 سے کم فوجی تعینات کرنے کی مظوری دی ہے۔

ایک سال سے زائد عرصے سے امریکا شام اور عراق میں 13٫000 سے زائد فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ امریکا کے داعش مخالف عالمی اتحاد میں 65 ممالک کی افواج شامل ہیں۔