.

عمرہ زائرین کی تعداد میں 25 فی صد اضافہ متوقع

نئے الیکٹرانک نظام کے تحت زائرین کے اخراجات میں 10 سے 15 فی صد کمی ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت نے اس سال عازمین عمرہ کے لیے ایک نیا برقی نظام (الیکٹرانک سسٹم) متعارف کرایا ہے جس کی وجہ سے بیرون ممالک سے عمرہ کے لیے آنے والے زائرین کے ہوٹل اخراجات میں دس سے پندرہ فی صد تک کمی واقع ہوگی۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ اس سیزن کے لیے منظور شدہ اس برقی عمرہ نظام کے تحت بروکروں کا کردار بالکل ختم ہوگیا ہے اور اب زائرین عمرہ براہ راست اس نظام کے تحت مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں ہوٹلوں کی بکنگ کراسکیں گے۔

سعودی عرب کی حج اور عمرہ امور کے ذمے دار قومی کمیٹی کے سربراہ عبداللہ عمر قاضی نے کہا ہے کہ نئے نظام کے تحت عمرے کے لیے آنے والوں کو ہوٹلوں میں قیام کی مد میں اخراجات میں دس سے پندرہ فی صد تک کی بچت ہوگی۔

اس الیکٹرانک سسٹم کو چلانے والی کمپنی سجیل نے حج اور عمرہ کمیٹی اور ایوان صنعت وتجارت مکہ مکرمہ کے نمائندوں کے اجلاس میں اپنے نظام کے خدوخال اور اس میں رجسٹریشن کا طریق کار بتایا ہے کہ عمرہ زائرین کس طرح ہوٹلوں کے کمروں کو ازخود براہ راست بُک کراسکتے ہیں۔

اس موقع پر عبداللہ عمر قاضی نے اس کہا کہ اس سال عمرہ زائرین کی تعداد میں گذشتہ سال کے مقابلے میں پچیس فی صد اضافہ متوقع ہے۔گذشتہ ہجری سال کے دوران ساٹھ لاکھ مسلمانوں نے عمرہ ادا کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ عمرہ کمپنیوں کے مالکان اور مکہ اور مدینہ منورہ میں ہوٹلوں کے مالکان کو بھی نئے نظام سے فائدہ ہوگا۔تمام ہوٹل ایک نظام کے تحت آ جائیں گے اور اس سے عمرہ کمپنیوں کو بھی ہوٹل بُک کرانے میں سہولت ہوگی۔سعودی عمرہ کمپنیوں اور ہوٹلوں کے درمیان الیکٹرانک نظام کے تحت نئے مربوط تعلق سے اب بکنگ چند سیکنڈز میں ہوسکے گی جبکہ اس سے پہلے اس عمل میں چوبیس گھنٹے لگ جاتے تھے۔