.

اولاند کا فرانسیسی بحری بیڑے کا دورہ، فوجیوں سے خطاب

چارلز ڈی غول چند دنوں بعد خلیج کے پانیوں میں اتحادیوں کی کمان کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے شامی ساحل سے دور گہرے سمندر میں اپنے طیارہ بردار بحری بیڑے"چارلز ڈی غول" کا دورہ کیا۔ انہوں نے جہاز پر تعنیات فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مشن دولت اسلامیہ عراق وشام [داعش] کے جنگجوئوں کے خلاف حملوں میں تیزی لانا ہے۔

طیارہ بردار جہاز پر فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے اولاند نے بتایا کہ "اگلے چند دنوں میں آپ کو نئے علاقے میں تعینات کیا جائے گا جہاں آپ اتحاد کے فریم ورک کی روشنی میں اتحادیوں کی کمان کریں گے۔"

فرانسیسی صدر نے دولت اسلامیہ عراق و شام کے لئے رائج محفف 'داعش' کو عربی لہجے میں استعمال کرتے ہوئے کہ 'فرانس پر خوفناک اور بزدلانہ حملوں کے بعد میں نے داعش کے خلاف جنگ تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔۔۔اس کا مطلب فضائی حملوں میں تیزی تھا۔"

فرانس کا طیارہ بردار 'چارلز ڈی غول' اگلے چند دنوں تک نہر سوئز عبور کر کے خلیج کے پانیوں میں پہنچے گا تاکہ وہ علاقے میں امریکی جہاز بردار بحری بیڑے کی جگہ لے سکے۔ "چارلز ڈی غول مارچ تک یہ ذمہ داری ادا کرے گا۔"

فرانس کا طیارہ بردار بحری بیڑا پیرس پر داعش کے حملے کے کچھ ہی دنوں بعد بحیرہ روم میں بھیج دیا گیا تھا۔ بحری بیڑے پر30 لڑاکا جہاز اور چار ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔ پیرس میں 13 نومبر کو ہونے والے حملے میں 130 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

اولاند کی جانب سے اس بیڑے کا یہ دورہ فرانس میں علاقائی انتخابات کے پہلے مرحلے سے صرف دو دن قبل کیا گیا ہے۔ ان انتخابات کے بارے میں گمان کیا جا رہا ہے کہ اولاند کی سوشلسٹ پارٹی کو قدامت پسند اور انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے کانٹے دار مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

رائے عامہ کے حالیہ جائزے کے مطابق اولاند کی مقبولیت پچھلے تین سال کی سب سے بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور فرانسیسی عوام پیرس حملوں کے بعد سے صدر کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات کو تحسین کر رہے ہیں۔

عراق میں داعش کے خلاف امریکی فضائی حملوں کے آپریشن میں شامل ہونے والا پہلا ملک فرانس ہی تھا۔ پیرس حملوں ک بعد سے شام میں بھی داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں میں تیزی آ چکی ہے، جہاں پر داعش کے گڑھ الرقہ اور تیل کے ڈپوؤں پر مسلسل بمباری کی جا رہی ہے۔

فرانسیسی فوج کے مطابق گذشتہ ہفتے کے دوران عراق میں موجود مقامی دستوں کی مدد کے لئے بیجی، سنجار اور رمادی کے علاقوں میں 20 سے زیادہ فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں۔

فرانسیسی بحری بیڑے پر1900 اہلکار موجود ہیں۔ ایک آبدوز، متعدد فریگیٹس اور ری فیولنگ کے لئے استعمال ہونے والی کشتیاں بھی چارلز ڈی غول کے ہمراہ ہیں۔