.

سعودی خواتین کو مرد سرپرست کے بغیر پاسپورٹس کے اجراء کی تجویز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی شوریٰ کونسل خواتین کو ان کے مرد سرپرستوں کے بغیر پاسپورٹس کے اجراء سے متعلق تجویز پرغور کررہی ہے۔

شوریٰ کونسل کی سکیورٹی امور کمیٹی بہت جلد اس تجویز کو بحث کے لیے پیش کرے گی۔اس سے قبل سول امور کمیٹی نے مطلقہ اور بیوہ سعودی خواتین کو کسی مرد سرپرست یا عدالتی حکم کے بغیر خاندانی امور کے انتظام کی اجازت دینے کی تجویز پیش کی تھی۔

اس کے تحت وزارت داخلہ مردوں کے علاوہ طلاق یافتہ اور بیواؤں کو بھی خاندانی شناختی کارڈز جاری کرے گی۔اس کے تحت انھیں ریکارڈ تک رسائی ،بچوں کی اسکول میں داخلے کے لیے رجسٹریشن اور طبی سہولتوں کے حصول کے لیے اختیارات حاصل ہوجائیں گے۔

اب تک مطلقہ سعودی خواتین کو اپنے سابقہ خاوند سے اجازت نامہ لینا پڑتا تھا۔اگر انھیں یہ اجازت نامہ نہیں ملتا تو پھر انھیں مذکورہ مقاصد کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔

شوریٰ کونسل کی سکیورٹی امور کمیٹی کے ارکان نے بیس سال سے زائد عمر شہریوں کے لیے سعودی پاسپورٹ کی میعاد پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کرنے سے بھی اتفاق کیا ہے۔تاہم ارکان کے درمیان پاسپورٹس کے اجراء کی فیس کو بڑھا کر 600 ریال کرنے پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے۔

کمیٹی کے بعض ارکان نے اس تجویز سے اختلاف کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ فیس بدستور 300 ریال ہی رہنی چاہیے۔کمیٹی نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ بیس سال سے کم عمر شہریوں کو پانچ سال کی مدت کے لیے 300 ریال کے عوض پاسپورٹ کے اجراء کا سلسلہ بدستور جاری رکھا جائے۔نئے ترمیم شدہ قانون کے تحت شہریوں کو اپنے پاسپورٹس کی میعاد ایک سال سے دس سال تک رکھنے کا اختیار دیا جائے گا۔