ترک ساحل پر مہاجرین کی کشتی ڈوب گئی، 18 ہلاک
ترک میڈیا کے مطابق یونان کے جزیرے کالیمنوس جانے والی ایک کشتی بحیرہ ایجئین میں ڈوب گئی جس کے نتیجے میں 18 افراد ڈوب کر ہلاک ہوگئے ہیں۔
ترکی کی مقامی نیوز ایجنسی "ڈوگان" کے مطابق ترکی کے کوسٹ گارڈز نے 14 افراد کو زندہ بچا لیا ہے جن میں شامی، عراقی اور پاکستانی شہری شامل ہیں۔
ایجنسی کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد کو انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے اور انہیں شدید ٹھنڈ کی وجہ سے ہائپو تھرمیا ہوگیا تھا۔
مہاجرین نے ترکی کے شہر بودروم سے ایک پرانی کشتی میں سوار ہوکر روانگی اختیار کی اور وہ ساحل سے صرف دو ناٹیکل میل کی دوری پر الٹ گئی اور اس میں سوار تمام افراد ڈوب گئے
عراق اور شام سمیت بیشتر ممالک سے تعلق رکھنے والے چھ لاکھ 50 ہزار مہاجرین بحیرہ ایجئین کو پار کر کے بہتر زندگی کی تلاش میں یورپ میں داخل ہوئے تھے۔ مگر ایک اندازے کے مطابق 500 افراد اس خطرناک سفر کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں۔
یورپی یونین کی قیادت جمعرات کے روز ہونے والی میٹنگز کے دوران فیصلہ کیا گیا ہے کہ نئے سال میں جون تک ایک نئی بارڈر اور کوسٹ گارڈ فورس بنائی جائے گی جو یورپی یونین میں مہاجرین کی آمد کو قابو میں کرے گی۔
-
163 شامی مہاجرین کے پہلے گروپ کی کینیڈا آمد
ٹورنٹو کے ہوائی اڈے پر وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے استقبال کیا
بين الاقوامى -
ای یو، بلقان مہاجرین کے لئے استقبالیہ مرکز بنانے پر متفق
یونان اور مشرقی یورپ کے ملکوں پر تارکین وطن کا بوجھ کم کرنے کے لیے یورپی یونین اور ...
بين الاقوامى -
جاپان عراق وشام کے مہاجرین کو 810 ملین ڈالر امداد دے گا
#جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے 'این ایچ کے' کے مطابق جاپان #شام اور #عراق سے ہجرت ...
بين الاقوامى