.

سعودی عرب کے عراق سے سفارتی تعلقات بحال

کویت پر حملے کے رد عمل میں ریاض نے بغداد سے تعلقات ختم کردیے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#کویت پر #عراق کے سنہ 1991ء کے حملے کے بعد #سعودی_عرب اور عراق کے درمیان تعطل کا شکار ہونے والے سفارتی تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔ #ریاض نے جلد ہی #بغداد میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دونوں عرب پڑوسی ملکوں کےدرمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کو علاقائی اور عالمی سطح پر خوش آئند قرار دے کراس اقدام کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت نے بھے فیصلے کو سراہتے ہوئے بہتری کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بغداد کے لیے سعودی عرب کے سفیر ثامر السبھان نے 30 دسمبر 2015ء سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ السبھان دونوں ملکوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو کم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی مساعی کریں گے۔

عراق کے لیے متعین سعودی سفیر نے "العربیہ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اصل مشن عراقی حکومت اور ریاض کے درمیان مختلف تنازعات کے حوالے سے نقطہ نظر میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب عراق کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں مراسم برقرار رکھنے کا خوہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاض اور بغداد کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی علاقائی امن و استحکام اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف مشترکہ کارروائی کے لیے ایک نیا باب کھولنے میں معاون ثابت ہوگا۔

دوسری جانب بغداد حکومت نے بھی سعودی عرب کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض اور بغداد میں دو طرفہ سفارتی تعلقات کی بحالی سے دونوں ملکوں کو مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کا موقع ملے گا۔