.

سیکورٹی فورسز، باغیوں کے درمیان جھڑپ؛ عدن میں کرفیو

صنعاء میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر اتحادی افواج کی بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#یمن کے عارضی دارالحکومت #عدن میں سیکورٹی کمیٹی نے آج (پیر کے روز) سے رات کے کرفیو کا اعلان کردیا ہے۔ کرفیو کا اطلاق رات 8 بجے سے صبح 5 بجے تک ہوگا۔ یہ اقدام گزشتہ رات سیکورٹی فورسز اور شدت پسند مسلح افراد کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے بعد کیا گیا۔ ان جھڑپوں کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوگئے، جن میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے۔

الضالع صوبے کے سابق سیکورٹی چیف عبدالخالق محمد شائع اور ان کے تین ساتھی اس وقت ہلاک ہوگئے جب نامعلوم مسلح افراد نے عدن شہر کے شمالی داخلی راستے پر ان کی گاڑی کو دوران گشت نشانہ بنایا۔

دریں اثنا العربیہ کے ذرائع نے واضح کیا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب کہ مسلح افراد اسی علاقے میں بندرگاہ پر دھاوا بولنے کی کوشش کرچکے تھے۔ تاہم پولیس کی نفری نے اس کارروائی کو ناکام بناتے ہوئے دو مسلح افراد کو مار ڈالا تھا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مقامی پولیس نے شہر میں سرکاری اداروں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے اور غیر حکومتی عناصر کو باہر نکالنے کے لیے وسیع آپریشن شروع کردیا ہے۔

دوسری جانب ذرائع نے العربیہ ٹی وی کو بتایا ہے کہ عرب اتحادی افواج کے طیاروں نے صنعاء اور الحدیدہ میں حوثی باغیوں کے کے نئے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ اس دوران اسلحے کے ذخائر اور عسکری کیمپوں کے ساتھ ساتھ #حوثی اور معزول صدر #عبداللہ_صالح کی ملیشیاؤں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔

یمن میں عرب اتحادی افواج کے ترجمان نے کہا ہے کہ قومی فوج وار عوامی مزاحمت کا ساتھ دینے کے لیے فوجی کارروائیوں جاری رہیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ صعدہ، حجہ، صنعاء اور تعز صوبوں کے مختلف علاقوں میں ملیشیاؤں کے ٹھکانوں اور آماج گاہوں پر فضائی بمباری کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

اس سے قبل حوثی باغیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ملیشیاؤں نے سعودی عرب کی جانب مارٹر گولے اور کیٹوشیا راکٹ داغے، جس کے جواب میں سعودی فوج کے توپ خانوں نے جبل المدبع کے نزدیک ان ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر گولہ باری کی۔

دوسری جانب یمن کے ساتھ سرحد پر گشت کرنے والے سعودی سرحدی محافظوں کا مملکت کی حدود میں دراندازی کی کوشش کرنے والی ملیشیاؤں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں متعدد مسلح افراد مارے گئے۔