ایران : میزائل پروگرام پر امریکا کی نئی پابندیوں کی مذمت
ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر امریکا کی نئی ''غیر قانونی'' پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انھیں مسترد کردیا ہے۔
ایران کی ایسنا نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابر انصاری نے امریکی پابندیوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ ''ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت کا حامل نہیں ہے اور یہ اس کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا تھا''۔
انھوں نے سوموار کے روز ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی براہ راست نیوز کانفرنس میں کہا کہ ''تہران امریکا کی نئی اقتصادی پابندیوں کو ''غیرقانونی'' سمجھتا ہے۔امریکا کی ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیوں کا کوئی قانونی یا اخلاقی جواز نہیں ہے''۔
ایرانی ترجمان کا کہنا تھا کہ ''امریکا ہر سال خطے کے دوسرے ملکوں کو اربوں ڈالرز مالیت کے ہتھیار فروخت کرتا ہے۔یہ ہتھیار فلسطینیوں ،لبنانیوں اور حال ہی میں یمنی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم میں استعمال کیے جارہے ہیں''۔
حسین جابر انصاری نے امریکا کی جانب سے اتوار کو عاید کردہ نئی پابندیوں کے ردعمل میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس پروپیگنڈے کا پورے عزم کے ساتھ جواب دے گا،وہ اپنے قانونی بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیزی سے ترقی دے گا اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی کے لیے مواد مہیا کرنے پر گیارہ اداروں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔یہ نئی قدغنیں ایران پر جوہری پروگرام کے تنازعے پر عاید پابندیوں کے خاتمے کے صرف ایک روز بعد لگائی گئی ہیں۔
محکمہ خزانہ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ پانچ ایرانی شہریوں اور متحدہ عرب امارات اور چین میں قائم کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک کو امریکا کی بلیک لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔یہ نیٹ ورک تیسرے ملک میں بیٹھ کر دھوکا دہی کے ذریعے بیرون ملک سے ایران کو بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلقہ حساس اشیاء مہیا کررہا تھا۔
محکمہ خزانہ کے قائم مقام انڈر سیکریٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس ایڈم جے زوبن کا کہنا ہے کہ ''ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے خطے اور عالمی سلامتی کو نمایاں خطرات لاحق ہیں اور اس پر بین الاقوامی پابندیاں جاری رہیں گی''۔ مذکورہ پانچ افراد ایران کو بیلسٹک میزائل کے اجزاء مہیا کرتے رہے تھے۔