سویڈن کا 80 ہزار پناہ گزینوں کو بے دخل کرنے کا فیصلہ
پناہ کے حصول کی درخواستیں مسترد
سویڈن کی حکومت نے اپنے ہاں پناہ لینے والے 80 ہزار افراد کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سویڈش وزیرداخلہ انڈریس ایجمن کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے 2015ء کے دوران جنگ زدہ ملکوں سے نقل مکانی کر کے سویڈن پہنچنے والے 80 ہزار افراد کی پناہ کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اس کے باوجود یہ لوگ سویڈن میں مقیم ہیں۔ ان کے خلاف جلد ہی حکومت سخت کارروائی کا ارادہ رکھتی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک مقامی اخبار اور’’ایف وی ٹی ‘‘ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے مسٹر ایجمن کا کہنا تھا کہ ہم سویڈن میں آنے والے تارکین وطن کا اندازہ ساٹھ ہزار لگا رہے تھے لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 80 ہزار تک جا پہنچی ہے۔ حکومت نے پولیس اور ایمی گریشن حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ پچھلے سال پہنچنے والے تمام پناہ گزینوں کے کوائف جمع کریں تاکہ انہیں ملک سے نکالنے کا پروگرام بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پناہ گزینوں کی واپسی میں کئی سال کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
-
شامی پناہ گزین بغیر ویزہ لبنان داخل نہیں ہو سکیں گے
لبنان کی حکومت نے پناہ گزینوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر شام سے آنے ...
مشرق وسطی -
شامی پناہ گزینوں کے لیے عطیات جمع کرنے کی مہم
'ایک ڈالر سے ایک پناہ گزین کی زندگی بچائی جا سکتی ہے'
مشرق وسطی -
لبنان: شامی پناہ گزین خواتین کیلیے کھانے پکانے کی تربیتی ورکشاپ
ورکشاپ اقوام متحدہ نے مسیحی تنظیم کاریتاس کی مدد سے شروع کی ہے
مشرق وسطی