.

خامنہ ای کے مشیر نے کرد ریاست کو دوسرا اسرائیل قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران کے سابق وزیر خارجہ اور مرشد اعلیٰ علی #خامنہ_ای کے مشیر ڈاکٹر علی #اکبر_ولایتی کا کہنا ہے کہ #کرد اپنے لیے جس ریاست کے خواہش مند ہیں، مشرق وسطیٰ میں اس کی حیثیت دوسرے #اسرائیل کی سی ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے #ترکی کی سرزمین کے تحفظ کے سلسلے میں اس کے اس بھرپور یکجہتی کا اعلان کیا۔

ترک روزنامے "آئیڈینلیک" کو دیے گئے انٹرویو میں ولایتی نے کردوں کی ریاست کی تشکیل کے ذریعے مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل ہونے سے خبردار کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس منصوبے کے پیچھے "صہیونیت اور سامراجیت" کا ہاتھ ہے۔ ولایتی کا دعویٰ ہے کہ کرد ریاست کے قیام کا مقصد "خطے میں دوسرا اور تیسرا اسرائیل بنانا ہے۔ سامراجی اور صہیونی عناصر درحقیقت خطے کو توڑنا چاہتے ہیں۔"

علی خامنہ ای کے مشیر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ مشرق وسطی بالخصوص شام کے حوالے سے #تہران اور #انقرہ کے درمیان شدید نوعیت کے اختلافات پائے جاتے ہیں، تاہم کردوں کی ریاست کے بارے میں دونوں ممالک ہی مشترکہ تشویش رکھتے ہیں۔ علی اکبر ولایتی نے باور کرایا کہ ہم سب پر لازم ہے کہ ترکی کی سرزمین کے تحفظ کا دفاع کریں۔

کرد مشرق وسطی میں بنا ریاست کے سب سے بڑی قوم سمجھی جاتی ہے۔ یہ لوگ مختلف تعداد میں ترکی، ایران، عراق اور شام میں تقسیم ہیں۔

آبادی کے لحاظ سے کرد ترکی، عراق اور شام دوسری بڑی قوم ہیں۔ قفقاز میں بھی کرد اقلیتیں موجود ہیں۔

ایران میں کردوں کا فارسی بانوں اور ترکوں کے بعد تیسرا نمبر ہے جب کہ عرب تعداد کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر آتے ہیں۔ ایران میں کرد 3 صوبوں کردستان، کرمان شان اور عیلام میں اکثریت جب کہ تین صوبوں میں اقلیت میں ہیں۔ ان میں مغربی آذربائیجان، ہمدان اور شمالی خراسان شامل ہیں۔ ان کردوں میں 60 فی صد سنی ہیں۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیر انصاف آئیلٹ شاکید نے منگل کے روز ایک بیان میں کردوں کے لیے ایک ریاست کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اسرائیل اور کردوں کے درمیان تعلقات مستحکم ہونے پر بات کی تھی۔ اسرائیلی خاتون وزیر نے ٹائمز آف اسرائیل اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں واضح طور پر مطالبہ کیا تھا کہ جغرافیائی طور پر ایران اور ترکی کے درمیان واقع علاقے پر کردستان ریاست قائم کی جائے۔

یاد رہے کہ کردوں کا پہلا انتظامی وجود 1946 میں ایران کے انتہائی شمال مغرب میں منظر عام پر آیا تھا۔ اس وقت مہاباد شہر کو دارالحکومت بنایا گیا اور اس کو جمہوریہ مہاباد کا نام دیا گیا۔ تاہم اس کے 11 ماہ بعد ایرانی فوج کے حملے کے نتیجے میں اس جمہوریہ کا سقوط ہوگیا۔ اس موقع پر ایرانی کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی کی بنیاد رکھی گئی جو عراق، ترکی اور شام میں تمام کرد جماعتوں کو جنم دینے والی جماعت سمجھی جاتی ہے۔

​عراقی کردستان کے سربراہ مسعود بارزانی کی جانب سے کئی مرتبہ اس بات کا اشارہ کیا جاچکا ہے کہ خود مختاری اور کرد ریاست کی تشکیل کے حوالے سے حق خود ارادیت کی بنیاد پر عوامی ریفرنڈم کرایا جائے۔ بارزانی نے کچھ عرصہ قبل ایک بیان میں باور کرایا تھا کہ "وقت آگیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی نئی سرحدیں کھینچی جائیں۔ اس لیے کہ مشرق وسطیٰ میں قوموں کا جبری بقاء باہمی خطے میں جنگوں اور خون بہنے کا سبب بنا ہے۔"