امریکا : سپریم کورٹ کے جج کی وفات کے بعد سیاسی بحران
امریکی صدر باراک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے متوفی جج انٹونن سکیلیا کی جگہ کورٹ کے نئے رکن کا تقرر کریں گے۔ مبصرین کے مطابق ہفتے کے روز اوباما کے اس اعلان سے ڈیموکریٹک صدر اور ریپبلکن کانگریس کے درمیان معرکہ آرائی کا عندیہ ملتا ہے۔ کانگریس نے اوباما سے مطالبہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں خالی ہونے والی نشست کو پر کرنے کی ذمہ داری آئندہ صدر کے لیے چھوڑ دیں۔
باراک اوباما نے جو اس وقت کیلیفورنیا میں ہیں اپنے بیان میں دوٹوک انداز میں کہا کہ "میں مقررہ وقت کے اندر جانشین (نئے جج) کا تقرر کرکے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میں ایسا کرنے میں اپنا پورا وقت لوں گا، سینیٹ کو بھی چاہیے کہ وہ وقت آنے پر اس شخص کی بات سن کر اور پھر اس تقرر پر ووٹنگ کرکے اپنی ذمہ داری کو پورا کرے"۔
امریکی آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے ارکان کے چناؤ کی ذمہ داری صدر کے کاندھوں پر ہوتی ہے جب کہ سینیٹ کے پاس اس تقرر کی توثیق یا اس کو مسترد کرنے کے اختیارات ہوتے ہیں۔
اوباما کا مزید کہنا تھا کہ "میں ان ذمہ داریوں کو سنجیدگی کے ساتھ لیتا ہوں اور سب کو ایسا ہی کرنا چاہیے۔ یہ کسی اکیلی سیاسی جماعت سے بڑا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ جمہوریت سے متعلق ہے"۔
ڈیموکریٹک صدر نے زور دے کر کہا کہ خالی منصب کو پر کرنے کا مسئلہ " ایک ایسے ادارے (سپریم کورٹ) سے متعلق ہے جس کے لیے جج سکیلیا نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو وقف کردیا"۔
انہوں نے اپنے خطاب میں انتقال کرجانے والے جج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ "ممتاز حیثیت کے انسان اور بہترین قانون دان تھے جنہوں نے اپنی زندگی قانون کی ریاست کے لیے وقف کردی تھی، وہ ہماری جمہوریت کا بنیادی نصاب تھے"۔
صدر اوباما کا یہ بیان سینیٹ میں اکثریتی لیڈر ریپبلکن مچ میکونل کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سکیلیا کے جانشین کا چناؤ آئندہ امریکی صدر کو کرنا چاہیے۔
میکونل نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ "سپریم کورٹ کے آئندہ جج کے چناؤ میں امریکی عوام کی رائے کا بھی حصہ ہونا چاہیے لہذا ملک میں نئے صدر کے آنے تک اس منصب کو خالی رہنا چاہیے"۔
سپریم کورٹ کے 79 سالہ متوفی جج انٹونن سکیلیا اپنے تقرر کے وقت سے امریکی آئین کی لفظ بہ لفظ تشریح کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے۔ انہیں سابق صدر رونالڈ ریگن نے 1986 میں امریکا کی اعلی ترین عدالت کا رکن مقرر کیا تھا۔
سپریم کورٹ میں طاقت کا توازن انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اتنا حساس کے جس نے ریپلکنز کو اس بات کو ماننے سے انکار پر مجبور کردیا کہ ڈیموکریٹک صدر، سکیلیا کے جانشین کے تقرر کی ذمہ داری پوری کرے کیوں کہ اس تقرر کا فائدہ دوسری جانب کو پہنچ سکتا ہے۔
آخری برسوں کے امریکی سیاسی زندگی میں سپریم کورٹ کا بنیادی کردار رہا ہے۔ خاص طور پر جب اس نے 2000ء کے صدارتی انتخابات کے دوران ریاست فلوریڈا میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روک دینے کا حکم جاری کیا تھا، اور اس کے نتیجے میں جارج بش جونیئر کے وہائٹ ہاؤس میں داخلے کی راہ ہموار ہوگئی۔
-
امریکا: صحافی عدالت میں ذرائع بتانے کا پابند نہیں ہو گا
سی آئی اے کے سابق افسر کے خلاف مقدمے کی سماعت جلد متوقع
بين الاقوامى -
ترکی: پہلی باپردہ خاتون جج کی عدالت میں مقدمے کی سماعت
جدید ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلامی سرپوش اوڑھنے والی ایک خاتون جج نے عدالت ...
ایڈیٹر کی پسند -
پاکستان میں پہلی خاتون وفاقی شرعی عدالت کی جج بن گئیں
جسٹس اشرف جہاں اس سے پہلے سندھ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج تھیں
پاكستان