آسٹریا : تارکین وطن کے لیے''بلقان روٹ'' مستقلاً بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

آسٹریا نے یورپ کے جنوب مشرقی ''بلقان روٹ'' کو غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے مستقل طور پر بند کردیا ہے۔

آسٹریا کی وزیر داخلہ جوہنا مکل لیٹنر نے جرمن روزنامے ڈائی ویلٹ سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''میرا موقف واضح ہے:بلقان روٹ مستقل طور پر بند رہے گا''۔ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مستقل اقدام سے ہی تارکین وطن کو روکا جاسکتا ہے۔

میکل لیٹنر نے کہا کہ ''اس اتحاد نے یورپ میں لوگوں کے لیے استحکام اور امن عامہ برقرار رکھنے کی غرض سے فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے''۔ان کا اشارہ روٹ کے ساتھ واقع بلقانی ریاستوں کی جانب تھا۔

بدھ کے روز مقدونیہ نے یونان کے ساتھ اپنی سرحد کو غیر قانونی تارکین وطن کے داخلے کو روکنے کے لیے بند کردیا تھا۔اس سے پہلے سلوینیا ،کروشیا اور سربیا بھی یہی اقدام کرچکے ہیں۔یہ ممالک آسٹریا کے راستے میں پڑتے ہیں۔انھوں نے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے لیے نئی سخت پابندیاں عاید کردی ہیں۔

یورپ کا رخ کرنے والوں میں کثیر تعداد مشرق وسطیٰ میں جاری لڑائیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے مہاجرین کی ہے جو ترکی سے بحر متوسط کے راستے پُرخطر سفر کرکے یونان اور پھر یورپ پہنچ رہے ہیں۔

بلقانی روٹ کی بندش سے ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن مقدونیہ کی سرحد کے ساتھ یونان کے علاقے اور ایک ہزار کے لگ بھگ سربیا کی سرحد کے ساتھ مقدونیہ کے علاقے میں قائم ایک مہاجر کیمپ میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

آسٹریا نے فروری میں تارکین وطن کی جوق درجوق آمد روکنے کے لیے سرحدوں پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔گذشتہ سال مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے پندرہ لاکھ تارکین وطن اور مہاجرین یورپ پہنچے تھے جس کے بعد اس براعظم کو ان کی آبادکاری اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک بحران کا سامنا ہے اور یورپی ممالک اب اس سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں