اسد رجیم جنگ بندی سے فائدہ اٹھانے سے گریز کرے: کیری
امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت اور روس سمیت ان کے اتحادیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ شام میں اپنے مقاصد کے لیے جنگ بندی سے فائدہ اٹھانے سے گریز کریں۔
انھوں نے یہ بات پیرس میں اپنے یورپی اتحادیوں سے ملاقات کے بعد کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''اگر رجیم اور اس کے حمایتی یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہر طرح کا امتحان لے سکتے ہیں۔وہ بعض علاقوں میں جنگ بندی پر عمل درآمد کو محدود کرسکتے ہیں،یا ایسا طرز عمل اختیار کرتے ہیں کہ جس سے شام میں جنگی کارروائیاں روکنے سے متعلق ان کے عزم کے بارے میں سوالات پیدا ہوں تو وہ غلطی پر ہوں''۔
جان کیری نے ،یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا مغرینی ،فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک آریو اور اپنے دوسرے یورپی ہم منصبوں سے ملاقات میں شام امن مذاکرات سمیت دوسرے اہم عالمی ایشوز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔قبل ازیں انھوں نے فرانسیسی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد کہا کہ شامی حکومت کے امن بات چیت کے بارے میں بیانات اس عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے شامی حکومت اور اس کے حامیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جنگی کارروائیاں روکنے سے متعلق تمام حدود نہ پھلانگیں اور ان کی جانب سے جاری خلاف ورزیوں سے امن عمل کو نقصان پہنچے گا۔
پیرس میں یہ اجلاس اقوام متحدہ کی زیر نگرانی جنیوا میں شامی فریقوں کے درمیان بالواسطہ بات چیت سے ایک روز قبل ہوا ہے۔یہ امن مذاکرات سوموار کو شروع ہورہے ہیں اور ان میں شرکت کے لیے شامی حکومت کے اعلیٰ مذاکرات کار اور اقوام متحدہ میں شام کے سفیر بشار الجعفری اتوار کی صبح جنیوا پہنچ گئے ہیں۔
شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکرات کمیٹی کا وفد محمد علوش کی سربراہی میں ہفتے کے روز سوئس شہر پہنچا تھا۔شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا کے مطابق مذاکرات کا یہ دوسرا دور 24 مارچ تک جاری رہے گا۔شامی حزب اختلاف اور حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گذشتہ ماہ ہوا تھا لیکن حزب اختلاف کا وفد شامی فوج اور روس کے طیاروں کی باغی گروپوں کے زیر قبضہ علاقوں پر بمباری جاری رہنے کے بعد مذاکرات سے اٹھ آیا تھا۔