.

بھاری نقصانات کے باوجود ایران کا چیدہ شخصیات کو شام بھیجنا جاری؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی فوج کے کمانڈر میجر جنرل عطاء اللہ صالحی نے ایرانی اسپیشل فورسز کے بدستور #شام بھیجے جانے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جن لوگوں کو بھیجا گیا ہے وہ "مخلتف یونٹوں کے رضاکار ہیں"۔ ادھر ایرانی ویب سائٹوں نے ایرانی فوج کے بریگیڈ 65 سے تعلق رکھنے والے مزید دو کمانڈوز کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔ ان کے نام حسين ہمتی اور صادق شیبک ہیں۔ دونوں کمانڈوز شام میں حلب کے نواحی دیہی علاقے میں مارٹر گولے سے زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گئے۔

اگرچہ شام میں ایرانی فوج اور #پاسداران_انقلاب کے جانی نقصان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جہاں ایرانی کمانڈوز کی ہلاکتوں کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے لڑائی میں پاسداران انقلاب اور اس کے زیرانتظام ملیشیاؤں کے ساتھ لڑنے کے لیے اپنی فورسز کے تربیت یافتہ اہل کاروں کو بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ مسلح فورسز #بشار_الاسد کی حکومت کی فوج کے ساتھ مل کر 5 برسوں سے لڑائی میں شریک ہیں۔

دوسری جانب میجر جنرل صالحی نے بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ "ایرانی فوج کے پاس مشاورتی معاونت پیش کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے"۔ انہوں نے باور کرایا کہ ایک "خاص گروپ" ہے جو یہ کام کر رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کا اشارہ مشاورتی کارروائیوں اور شام میں مختلف محاذوں پر مشترکہ آپریشنز روم کے کنٹرول میں پاسداران انقلاب کے جنرلوں کے کردار کی جانب تھا۔

واضح رہے کہ اس بات پر بہت تنقید کی جارہی ہے اور ساتھ ہی سوالات بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ پاسداران انقلاب اور شام میں موجود ملیشیاؤں پر اکتفا کرنے کے بجائے فوج کے اسپیشل فورسز کے یونٹوں کو شام بھیجے جانے کی کیا وجوہات ہیں؟ #ایران میں بعض سرگرم حلقوں نے فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جابروں کی خدمت گاری میں لگی ہوئی ہے اور اسے ایران کی حفاظت کرنے والی فوج سے بدل کر بشار الاسد کے آمرانہ نظام کے تحفظ کے لیے اجرت پر لڑنے والی فورس بنا دیا گیا ہے، جب کہ بعض دوسرے حلقوں کا کہنا ہے کہ فوج خطے میں ایران کے توسیعی منصوبے کے سلسلے میں شام گئی ہے.

شام تجربوں کا میدان

اس سلسلے میں ایرانی ذمہ داران نے جن میں ایرانی بری فوج کے کمانڈر جنرل احمد رضا پوردستان بھی شامل ہیں، اخباری بیانات میں انکشاف کیا ہے کہ ایرانی فوج کو شام بھیجنے کا مقصد لڑائی کے میدانوں میں تجربے کا حصول ہے اس لیے کہ ایرانی فوج کو بیرون ملک لڑنے کا محدود تجربہ ہے۔

اگرچہ ایرانی آئین کا آرٹیکل 148 ایران کی خودمختاری کے تحفظ اور اس کی اراضی کی سلامتی کے مقصد کے سوا فوج کی تعیناتی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ تاہم پاسداران انقلاب کے نزدیک سمجھی جانے والی نیوز ایجنسی "مشرق" کا کہنا ہے کہ فوج کو بیرونی مشن پر بھیجنے کا مقصد فوج اور پاسداران انقلاب کے درمیان اختلافات کو ختم کرنا مسلح افواج کی صفوں کو متحد کرنا ہے تاکہ ایرانی نظام کے اعلیٰ ترین مفادات کے حصول اور خطے میں مقاصد کو یقینی بنایا جاسکے۔

​واضح رہے کہ شام میں جنگ ایرانی فوج کے لیے اس سطح پر پہلی بیرونی مداخلت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ #تہران میں حکومت اور فوجی قیادت دونوں ہی شام میں مداخلت کو دشمن سے لڑنے کا تجربہ حاصل کرنے کا بہترین موقع شمار کررہی ہیں۔

تاہم زمین پر ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے فوج کی کوششیں حالیہ کچھ عرصے میں انتہائی بھاری قیمت کی ثابت ہوئی ہیں بالخصوص جب کہ شام میں ایرانی فوج کے اہل کاروں اور افسروں کی بڑی تعداد میں ہلاکت کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی بری فوج کے کمانڈر جنرل احمد رضا پوردستان نے تصدیق کی کہ بریگیڈ 65 کے ارکان کے علاوہ دیگر یونٹ بھی ان کارروائیوں میں شرکت کے لیے شام میں داخل ہوئے جو شامی حکومت کی فوج روس کی فضائی معاونت کے ساتھ حلب صوبے میں کررہی ہیں۔

بریگیڈ 65 کے 4 افسران شام پہنچنے کے چند ہی روز بعد حلب کے نواحی دیہی علاقے میں ہونے والے معرکوں میں مارے گئے۔

گزشتہ چند روز میں ایرانی میڈیا نے پاسداران انقلاب کے ہلاک ہونے والے نئے اہل کاروں کے نام جاری کیے جو حالیہ چند روز کے دوران حلب کے معرکوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں متعدد افسران کے علاوہ پاسدران انقلاب کے زخمی ہونے والے ایک کمانڈر جنرل محمد رضا فلاح زادہ بھی شامل ہیں۔

گرین کیپس (بریگیڈ65) کا قیام کب عمل میں آیا؟

یاد رہے کہ بریگیڈ 65 جس کے اہل کار گرین کیپس کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اس کا قیام ایرانی شاہ کے دور میں 1959 میں عمل میں آیا۔ ابتدا میں یہ "اسپیشل فورسز بریگیڈ 23" کے نام سے جانا جاتا تھا۔

امریکی اسپیشل فورسز کے مشیران نے اس بریگیڈ کے قیام میں مدد کی جس کی 1991 میں از سر نو تنظیم کی گئی اور پھر اسے (بریگیڈ 65) کا نام دیا گیا۔ اس نے اب ایک اسپیشل ایلیٹ یونٹ برقرار رکھا ہوا ہے جو انسداد دہشت گردی اور یرغمالیوں کو بچانے کی کارروائیوں میں شریک ہوتا ہے۔

شاہ کے زمانے میں 1972-1973 کے دو سالوں میں ایرانی فوج نے ایک بڑی عسکری فورس کو سلطنت عمان بھیجا تاکہ باغیوں اور کمیونسٹوں کے خلاف لڑائی میں وہاں کی حکومت کی مدد کی جاسکے۔

انیس سو ستر کی دہائی میں ایرانی فوج کے ارکان نے بغداد میں مرکزی حکومت کی فوج کے خلاف عراقی کرد فورسز کی مدد کی تھی۔

1982 میں ایرانی فوج کے "بریگیڈ 58" کو مختصر مدت کے لیے شام بھیجا گیا تھا تاکہ وہ پاسداران انقلاب کے زیرانتظام مشترکہ آپریشن ٹیم کا ایک حصہ بن سکے جس کا مقصد لبنان میں اسرائیل کی پیش قدمی کو روکنا تھا۔ تاہم کچھ عرصے بعد ہی اس کو واپس بلا لیا گیا کیوں کہ ایرانی انقلاب کے سرخیل خمینی نے اس معاملے میں اپنی رائے تبدیل کرلی تھی۔