.

گولان کی پوزیشن تبدیل نہیں ہوسکتی : سلامتی کونسل کا اسرائیل کو جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی سلامتی کونسل کے سربراہ لی باؤڈونگ کا کہنا ہے کہ شام کے مقبوضہ پہاڑی علاقے گولان پر اسرائیلی دائرہ اختیار غیرقانونی اور کالعدم ہے اور گولان کی پوزیشن کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا"۔

باؤڈونگ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب ہیں اور رواں ماہ اپریل کے لیے سلامتی کونسل کی گردشی صدارت اس وقت ان کے ملک کے پاس ہے۔ باؤڈونگ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں سے باچ چیت کرتے ہوئے کہا کہ "سلامتی کونسل کے ارکان نے منگل کے روز (بند کمرے میں ہونے والے مشاورت اجلاس میں) باور کرایا کہ گولان کے پہاڑی علاقے سے متعلق اسرائیل کا دائرہ اختیار غیرقانونی اور کالعدم (باطل) ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "سلامتی کونسل اپنی قرارداد 497 کی پابند ہے جس کے مطابق گولان کے پہاڑی علاقے میں قانونی احکامات کے نفاذ اور اپنی انتظامیہ مسلط کرنے کے حوالے سے اسرائیل کی جانب سے کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ غیرقانونی اور کالعدم ہوگا اور اس کوئی قانونی اثر نہیں ہوگا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "سلامتی کونسل ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ میں امن کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتی ہے"۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 497 سترہ دسمبر 1981 کو جاری کی گئی تھی۔

سلامتی کونسل کے سربراہ نے واضح کیا کہ "اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی پوزیشن تبدیل نہیں کی جاسکتی"۔ ساتھ ہی انہوں نے اس حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادوں بالخصوص 242 اور 338 کی جانب اشارہ کیا۔

5 جون 1967 کی جنگ کے بعد سلامتی کونسل نے نومبر 1967 میں قرارداد 242 جاری کی جس میں ملکوں کی اراضی پر ان کی خودمختاری کے احترام اور مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور دائمی امن کے بنیادی اصولوں کی توثیق پر زور دیا گیا تھا۔

بعدازاں 22 اکتوبر 1973ء کو قرارداد 338 جاری کی گئی جس میں اکتوبر کی جنگ کے تمام تر محاذوں پر فائربندی اور سابقہ قرارداد 242 پر تمام شقوں کے ساتھ فوری طور پر عمل درامد کے لیے زور دیا گیا تھا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل مندوب ڈینی ڈینن نے شام کے مقبوضہ پہاڑی علاقے گولان سے متعلق سلامتی کونسل کے سربراہ کا بیان مسترد کر دیا۔ ای میل کے ذریعے صحافیوں کو بھیجے گئے پیغام میں انہوں نے کہا کہ "سلامتی کونسل کا آج کے دن صرف اس موضوع پر ایک اجلاس منعقد کرنا درحقیقت مشرق وسطیٰ کے خطے کے حقائق کو نظرانداز کرنا ہے"۔

گزشتہ ہفتے گولان میں اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے باور کرایا تھا کہ گولان سے اسرائیل کا انخلاء کبھی نہیں ہوگا اور یہ ہمیشہ کے لیے اسرائیل کے زیرکنٹرول رہے گا۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "ہم اس سے دست بردار ہونے کو مسترد کرتے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ پوری دنیا یہ تسلیم کرلے کہ گولان اسرائیل کا ہے"۔

گولان کے پہاڑی علاقے سے متعلق نیتن یاہو کے اس بیان پر عرب اور اسلامی دنیا کے علاوہ عالمی برادری کی جانب سے سیاسی اور میڈیا کی سطح پر شدید تنقیدی ردعمل سامنے آیا تھا۔

اگرچہ گولان پر اسرائیلی قبضے کو 49 برس گزر چکے ہیں تاہم اس کے باشندوں کی اکثریت اپنی شامی قومی شناخت پر اصرار کرتی ہے۔ ان لوگوں کے خیال میں نیتن یاہو کے بیان سے ان کے موقف میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئے گی۔

اسرائیل نے 1967ء کی جنگ کے دوران شام کے پہاڑی علاقے گولان کے زیادہ تر رقبے کو قبضے میں لے لیا تھا اور پھر 1981 میں اس کو اسرائیلی ریاست میں شامل کرنے کا اعلان بھی کیا تاہم اس قدام کو عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔