.

حلب کے اسپتال میں قتل عام، یو این، امریکا کا احتجاج

روس سے بشار الاسد کو جنگی جرائم سے باز رکھنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ روز شام کے شورش زدہ شہر حلب کے ایک اسپتال پرجنگی طیاروں کی وحشیانہ بمباری اور بڑی تعداد میں شہریوں کی اموات پرامریکا اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ امریکی حکومت نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بشارالاسد کو جنگی جرائم سے باز رکھنے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں جمعرات کے روز حلب میں قائم طبیبان ماورائے سرحد [ڈاکٹرز ود آؤٹ باؤنڈریز] نامی تنظیم کے اسپتال پر بمباری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے شہریوں کے خلاف شامی فوج کی کھلی جارحیت قرار دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ حلب کے اسپتال پر بمباری کے ذریعے مخصوص نوعیت کا خوف پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔ حملے میں بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری شامی حکومت پر عاید ہوتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ارنسٹ کا کہنا تھا کہ ہم شام کے شہر حلب میں تازہ فضائی حملوں، جن میں 60 سے زاید انسانی جانی ضائع ہوئی ہیں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ نے بھی حلب کی شہری آبادی اور اسپتالوں پر بمباری کو شامی فوج کی منظم جارحیت قرار دے کر ان حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔ وزارت خارجہ نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال بند کرانے کے لیے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے اور اسد رجیم کو نکیل ڈالے۔

اسپتالوں پر بمباری منظم منصوبہ بندی

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے شام میں اسپتالوں پر سرکاری فوج اور اس کے حامیوں کی جانب سے کی جانے والی بمباری کو اسد رجیم کی شہریوں کو نشانہ بنانے کی منظم حکمت عملی قراردیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حلب کے اسپتال پربمباری کا یہ واقعہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس نہیں بلکہ شامی فوج اب تک باغیوں کے زیرکنٹرول علاقوں پر اسی طرح کی ننگی جارحیت کی مرتکب ہوچکی ہے اور ان حملوں میں سیکڑوں افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے بھی روسی حکومت پر زور دیاکہ وہ شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی اسدی پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے جنگ بندی کی پاسداری اور اسپتالوں پر بمباری سے گریزکے لیے دمشق حکومت پردباؤ ڈالے۔

جان کیری کا کہنا تھا کہ یہ نہایت المناک بات ہے کہ شامی فوج کے جنگی طیاروں نے ریڈ کراس اور ڈاکٹرز ود آئوٹ بارڈرز کے زیرنگرانی چلنے والے دو اسپتالوں پر وحشیانہ حملے کیے گئے ہیں جن میں بڑی تعداد میں مریض، خواتین اور بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز جنگی طیاروں نے حلب میں باغیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں دو اسپتالوں پر بمباری کی تھی جس کے نیتجےمیں 60 سے زاید شہری جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ بمباری شامی فوج کے جنگی طیاروں کی جانب سے کی گئی تھی۔

اسپتالوں پر بمباری بلا جواز: بان کی مون

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے حلب میں قائم القدس میڈیکل کمپلیکس پر وحشیانہ بمباری کی شدید مذمت کرتےہوئے کہا ہے کہ اسپتالوں پر بمباری کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسپتالوں پربمباری کرنے والے عام شہریوں کو دانستہ طورپر نشانہ بنا رہے ہیں۔

بان کی مون کا کہنا تھا کہ جنگی جرائم کے مرتکب لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ انہوں نے روس اور امریکا پر زور دیا کہ وہ شام میں جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے فریقین پر دباؤ ڈالیں اور دمشق کے اسپتال پر بمباری جیسے ہولناک واقعے کی روک تھام اور اس کی تحقیقات کے لیے عالمی اداروں سے تعاون کریں۔