'خلیج فارس' کو 'خلیج عرب' کہنے والے ایران دشمن ہیں

ایرانی عہدیدار ’خلیج عرب زندہ باد‘ کا نعرہ لگانے پر سیخ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایران میں خلیج عرب کو ’خلیج فارس‘ قرار دینے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جاتا ہے مگر خود ملک کے اندر ایسے طبقات موجود ہیں جو تہران سرکار کے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ’خلیج عرب زندہ باد‘ کا نعرہ لگا دیتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں ایرانی صدر حسن روحانی کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور علی یونسی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خلیج کی ’فارسی حیثیت‘ کے مخالفین کو خوب رگیدا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ خلیج فارس کے بجائے خلیج عرب کا نعرہ لگاتے ہیں وہ ملک وقوم کے دشمن ہیں۔ ان کا ایران کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

علی یونسی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ایران کے عرب اکثریتی صوبہ اھواز اور آذر بائیجان میں ہونے والے فٹ بال میچوں کے دوران بھی شائقین کی جانب سے ’خلیج عرب زندہ باد‘ کے نعرے لگائے تھے۔

خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق علی یونسی جو سابق انٹیلی جنس چیف رہے ہیں اور اپنے متشدد بیانات کی وجہ سے کافی شہرت رکھتے ہیں نے ’’یوم خلیج فارس‘‘ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ شخص جو ایران کا باشندہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اسے ’خلیج فارس‘ زندہ باد کا نعرہ لگانا چاہیے اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ ایران کے شہری نہیں بلکہ ملک وقوم کے کھلے دشمن ہیں۔

علی یونسی نے مزید کہا کہ ایران کی شناخت ’فارسی‘ ہے اور جو لوگ خلیج فارس کو خلیج عرب کہتے ہیں وہ انتہا پسند اور قومی وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فارسی ایک زبان ہی نہیں بلکہ ’فارس‘ ایک امت کا نام ہے، فارس اور فارسی میں کوئی فرق نہیں ہے۔

خیال رہے کہ علی یونسی ماضی میں بھی اپنے متنازع نوعیت کے بیانات کی وجہ سے کافی مشہور رہے ہیں۔ ان کی جانب سے سامنے آنے والے بیشتر بیانات عرب ممالک کی مخالفت میں ہوتے ہیں۔ مارچ 2015ء کو انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران ایک شہنشاہیت ہے اور بغداد اس کا دارالحکومت ہے۔ ان کے اس بیان پر عرب ممالک میں شدید رد عمل سامنے آیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں