امریکی حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کی متضاد اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور پر فضائی حملہ کیا ہے۔ ممکنہ طور پر وہ اس حملے میں مارے گئے ہیں، تاہم حکام اس حملے کے نتائج جائزہ لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ صدر باراک اوباما کی منظوری سے کیا گیا ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق طالبان رہ نما ملا اختر منصور کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی علاقے میں بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہونے کا امکان ہے۔ یہ کارروائی امریکا کے معیاری وقت کے مطابق صبح سات بجے عمل میں لائی گئی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ملا اختر منصور کی ہلاکت کی خبر درست ثابت ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری امن مساعی کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تاہم پینٹا گون کا دعویٰ ہے کہ ملا اختر منصور امن بات چیت میں رکاوٹ پیدا کرتے رہے ہیں۔

ملا منصور گذشتہ سال ملا عمر کی ہلاکت کی خبر آنے کے بعد جولائی 2015 میں طالبان کے امیر بنے۔ تاہم طالبان کے بعض دھڑوں نے انھیں اپنا امیر ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان پیٹر کک نے ایک بیان میں کہا کہ ملا منصور ’طالبان کے سربراہ رہے ہیں اور وہ کابل اور افغانستان بھر میں تنصیبات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں فعال طریقے سے حصہ لیتے رہے ہیں۔ وہ افغان شہریوں، سکیورٹی فورسز اور ہمارے عملے کے ارکان اور اتحادیوں کے لیے خطرے کا باعث بنے رہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’منصور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن اور مصالحت کی راہ میں رکاوٹ رہے اور انھوں نے طالبان رہنماؤں کو افغان حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ لینے سے روک رکھا ہے۔‘

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اس حملے کی منظوری امریکی صدر براک اوباما نے دی تھی اور اس میں ایک اور بالغ جنگجو بھی ہلاک ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں