.

ایران ،بھارت اور افغانستان میں چاہ بہار بندرگاہ راہداری معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران ،افغانستان اور بھارت کے درمیان چاہ بہار بندرگاہ راہداری معاہدہ طے پاگیا ہے۔اس کے تحت ایران بھارت کو چاہ بہار کی بندرگاہ سے زمینی گذرگاہ کے ذریعے افغانستان تک رسائی دے گا۔

ایرانی صدر حسن روحانی ،ان کے افغان ہم منصب اشرف غنی اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس سہ فریقی تجارتی راہداری معاہدے پر سوموار کے روز تہران میں دستخط کیے ہیں۔اس کے تحت بھارت چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر کے لیے پچاس کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔اس کے علاوہ بھارت ایران میں اربوں ڈالرز مالیت کے دوسرے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کرے گا۔

ایرانی صدر نے اس موقع پر سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کی گئی تقریر میں کہا ہے کہ ''آج تینوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کے لیے بڑی اہمیت کا حامل تاریخی دن ہے''۔

انھوں نے کہا:''تہران ،نئی دہلی اور کابل سے یہ ایک اہم پیغام ہے اور وہ یہ کہ علاقائی ممالک کی ترقی کا راستہ مشترکہ تعاون اور علاقائی مواقع سے فائدہ اٹھانے سے ہو کر گذرتا ہے''۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ ''ہم دنیا سے رابطہ چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے ہمارے اپنے درمیان باہمی تعلق وربط ترجیح ہے''۔افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ''آج ہم چاہ بہار سے آغاز کررہے ہیں لیکن اس کا انجام مکمل جامع ترقی اور اقتصادی،ثقافتی تعاون ہوگا''۔

بھارت اور ایران مل کر پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی سرحد کے نزدیک واقع چاہ بہار کی بندرگاہ کو ترقی دیں گے اور وہاں سے افغانستان تک شاہراہیں تعمیر کی جائیں گی۔ان سے خشکی میں گھرے ہوئے افغانستان کو سمندر کے ذریعے بیرونی دنیا سے تجارتی روابط استوار کرنے کا موقع میسر آئے گا اور بھارت ایران اور افغانستان کے راستے وسط ایشیا تک رسائی حاصل کرسکے گا۔

بھارت اور ایران نے اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کو بائی پاس کیا ہے۔بھارت افغانستان کے علاوہ وسط ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے انفرااسٹرکچر کی تعمیر کے ان منصوبوں پر بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے جبکہ اس کا ایک بڑا مقصد چین ،پاکستان اقتصادی راہداری کا توڑ کرنا بھی ہے۔اس منصوبے سے چین کو پاکستان کی گوادر بندرگاہ تک رسائی حاصل ہوجائے گی اور اس کے تحت چین سے گوادر تک شاہراہیں تعمیر کی جارہی ہیں۔

تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ گوادر کی گہری پانیوں کی بندرگاہ ایک تزویراتی اہمیت کی حامل ہے اور اس تک وسط ایشیا کی ریاستیں بھی رسائی حاصل کرسکتی ہیں جبکہ چاہ بہار کی بندرگاہ ایک تجارتی گذرگاہ کے طور پر ہی استعمال ہوگی اور اس کی وہ تزویراتی اہمیت نہیں ہے جو گوادر بندرگاہ کی ہے۔نیز چاہ بہار گہرے پانیوں کی بندرگاہ نہیں ہے۔

صدر حسن روحانی نے چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر کو ایران اور بھارت کے درمیان تعاون کی ایک بڑی علامت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کے توانائی کے وسائل اور بھارت کی کانیں ایلومینیم ،اسٹیل اور پیٹرو کیمیکل کی صنعتوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کی راہ ہموار کرسکتی ہیں۔

دونوں ملکوں نے ٹیکنالوجی ،پیٹرو کیمیکل اور بنک کاری کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے بعض منصوبوں پر بھی دستخط کیے ہیں اور بھارت نے ماضی میں ایران سے خرید کیے گئے تیل کے واجبات کی ادائی بھی شروع کردی ہے۔ایران سے تیل کی خریداری کی مد میں چھے ارب ڈالرز قرضے کی شکل میں بھارت کے ذمے واجب الادا ہیں اور اس نے گذشتہ ماہ ایران کو 75 کروڑ ڈالرز ادا کیے تھے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ تیل کے قرضے کی مد میں باقی رقوم بھی جلد ادا کرے گا۔

واضح رہے کہ سنہ 2012ء میں ایران بھارت کو خام تیل کا دوسرا بڑا برآمد کنندہ ملک تھا لیکن متنازعہ جوہری پروگرام کی پاداش میں ایران کے خلاف عالمی اقتصادی پابندیاں عاید ہونے کے بعد اس کی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی واقع ہوگئی تھی۔اب آہستہ آہستہ وہ دوبارہ عالمی مارکیٹ میں اپنے قدم جمانے کے لیے کوشاں ہے اور وہ بھارت ایسے ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی مفادات کو مقدم رکھ کر معاہدے کررہا ہے اور وہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ ایسی گماشتہ تنظیموں کے ذریعے اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے۔