.

مکہ:50 لاکھ زائرین کی آمد، نئے سکیورٹی کیمروں کی تنصیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ میں سکیورٹی کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کی مشتبہ نقل وحرکت کی نگرانی کے لیے چودہ نئے سکیورٹی کیمرے نصب کردیے گئے ہیں جبکہ گذشتہ سال نومبر میں نئے عمرہ سیزن کے آغاز کے بعد سے قریباً ساڑھے پچاس لاکھ زائرین کی حجاز مقدس میں آمد ہوچکی ہے۔

سعودی حکام کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق یہ تعداد گذشتہ سال اس عرصے کے دوران عمرے کے لیے حجاز مقدس آنے والے زائرین کی تعداد سے پانچ فی صد زیادہ ہے۔مصر سے تعلق رکھنے والے زائرین کو عمرے کے 1207891 ویزے جاری کیے گئے ہیں۔ان میں سے 1077761 کی مکہ مکرمہ میں آمد ہوچکی ہے۔

پاکستان میں سعودی سفارت خانے نے 864409 ویزے جاری کیے ہیں اور ان میں 782988 پاکستانی زائرین عمرے کے لیے سعودی عرب آچکے ہیں۔ترکی سے 611238 زائرین سعودی عرب عمرے کے لیے گئے ہیں۔یہ تعداد گذشتہ سال اس عرصے کی تعداد کے مقابلے میں چھے فی صد زیادہ ہے۔ترکی میں سعودی سفارت خانے نے 661079 ویزے جاری کیے ہیں۔

ایک سعودی عہدے دار کے مطابق سنہ 2020ء تک عمرہ سیزن سے حاصل ہونے والی آمدن بڑھ کر 200 سعودی ریال ہونے کی توقع ہے۔سعودی وژن 2030ء کے تحت حج اور عمرے کی خدمات میں توسیع سے تیس ہزار سے زیادہ سعودی نوجوان مرد وخواتین کو روزگار کے موقع میسر آئیں گے۔

اس وقت قریباً پچاس عمرہ کمپنیاں کام کررہی ہیں۔سعودی عرب کی وزارت حج اور عمرہ اس سال حج سیزن کے بعد قریباً ایک سو نئی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرے گی۔

سکیورٹی کیمروں کی تنصیب

درایں اثناء سکیورٹی حکام نے مکہ مکرمہ اور مسجد الحرام کے ارد گرد چودہ نئے سکیورٹی کیمروں کی تنصیب کا کام مکمل کر لیا ہے۔ان کا مقصد عازمین حج اور عمرہ ،شہر کے مکینوں اور زائرین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

مکہ میں سکیورٹی امور کے سربراہ اور کرائسیس اور ڈیزاسسٹر مینجمنٹ مرکز کے نگران سعود بن جلوی نے بتایا ہے کہ ان کا مرکز جدید ٹیکنالوجی سے مکمل طور پر لیس ہے اور درکار انسانی وسائل دستیاب ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''لوگ کسی بھی بحران کی صورت میں 911 نمبر پر ہم سے رابطہ کرسکتے ہیں۔یہ مرکز رمضان کے آغاز تک مکمل طور پر کام کرنا شروع کردے گا۔ہمارے ملازمین اعلیٰ تربیت یافتہ ہیں اور ہماری سکیورٹی کی تنصیبات بین الاقوامی معیار کے مطابق ہیں''۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ مکہ اور مقدس مقامات کے ترقیاتی کمیشن نے لوگوں کی مکہ میں آمد کی نگرانی کے لیے ڈیڑھ سو ٹاورز میں نئے آلات نصب کیے ہیں۔اس کے علاوہ کمیشن آیندہ حج سیزن سے قبل مختلف منصوبوں کو پایہ تکمیل کو پہنچانے کے لیے کوشاں ہے۔

کمیشن پیدل چلنے والوں کو سورج کی تپش سے بچانے کے لیے چھتریاں نصب کررہا ہے اور وہاں کرسیاں بھی لگائی جارہی ہیں تاکہ وہ ان پر بیٹھ کر کچھ دیر سستا سکیں۔کمیشن نے میٹرو ٹرین پر بیک وقت سفر کرنے والوں کی حد تیس ہزار مقرر کردی ہے تاکہ کمپارٹمنٹس میں رش نہ لگے۔

بن جلوی نے مزید بتایا ہے کہ ''جمرات تک پہنچنے کے لیے مزید شاہراہیں بنا دی گئی ہیں۔جمرات کو العزیزیہ سے ملانے والی صدقی شاہراہ پر پل پر ایک نیا راستہ بھی بنایا جارہا ہے اور کمیشن نے منیٰ میں ایک ہزار سکیورٹی کیمرے نصب کردیے ہیں''۔