.

بن علی یلدرم پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیراعظم بن علی یلدرم پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ اور اپنے قانون سازی کے پروگرام کی منظوری لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

ترک پارلیمان کے اسپیکر اسماعیل قہرمان نے بتایا ہے کہ اتوار کو ایوان میں موجود 315 اراکین نے نئی کابینہ کے حق میں ووٹ دیا ہے اور 138 نے اس کی مخالفت کی ہے۔

بن علی یلدرم صدر رجب طیب ایردوآن کے قریبی معتمد ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں اور حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (آق) کے بانی لیڈروں میں سے ایک ہیں۔انھیں گذشتہ اتوار کو آق کی کانگریس میں جماعت کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے اور یوں وہ ملک کے وزیراعظم بھی نامزد ہوگئے تھے۔

اب اقتدار سنبھالنے کے بعد ان کی حکومت کے ذمے سب سے بڑا کام آئین میں ترامیم کرانا ہوگا جس کے تحت ترکی میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام رائج کیا جائے گا اور اس طرح صدر ایردوآن کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہوجائے گی۔

ان کے پیش رو وزیراعظم احمد داؤد اوغلو کو صدر ایردوآن سے اختلافات کے بعد اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ان دونوں لیڈروں کے درمیان کرد باغیوں کے ساتھ امن عمل ،ترکی کے یورپی یونین کے ساتھ مہاجرین سے متعلق معاہدے اور ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام رائج کرنے ایسے امور پر اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بن علی یلدرم نے کبھی صدر سے پالیسی ایشوز پر اختلاف نہیں کیا۔اب وہ ان کے لیے زیادہ لچکدار شخصیت ثابت ہوں گے جس سے وہ اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط بنا سکیں گے اور ملک میں صدارتی نظام کے نفاذ کے لیے اپنی دیرینہ خواہشات کو بھی عملی جامہ پہنا سکیں گے۔

بن علی یلدرم ترکی کے آخری وزیراعظم ثابت ہوسکتے ہیں۔وہ صدارتی نظام میں ایردوآن کے نائب کا کردار ادا کریں گے۔مبصرین کی رائے میں ایردوآن مستقبل میں نئی کابینہ میں خارجہ اور اقتصادی پالیسی کی خود نگرانی کریں گے۔