ترکی کی کُردوں کے بغیر داعش کے خلاف لڑنے کی پیش کش
ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاوش اوگلو نے بتایا ہے کہ انقرہ حکومت نے واشنگٹن کو شام میں شدت پسندوں کے خلاف خصوصی مشترکہ آپریشن کرنے کی پیش کش کی ہے جو کرد فورسز کے بغیر ہوگا۔ ترکی کرد فورسز کو "دہشت گرد" شمار کرتا ہے جب کہ واشنگٹن انہیں سپورٹ کر رہا ہے۔
جاوش اوگلو نے صحافیوں کے ایک چھوٹے مجموعے کو بتایا کہ " ہمیں ایک نیا محاذ کھولنا چاہیے مگر اس میں ڈیموکریٹک یونین پارٹی شریک نہ ہو"۔ ان کا اشارہ کرد مسلح فورس "پیپلز پروٹیکشن یونٹس" کے عسکری ونگ کی جانب تھا جس کو شام میں امریکا کی معاونت حاصل ہے جب کہ انقورہ حکومت اسے "دہشت گرد" سمجھتی ہے۔
دوسری جانب جاوش اوگلو کا یہ بھی کہنا تھا کہ شامی اپوزیشن کے مسلح عرب جن کو ترکی اور امریکا کی اسپیشل فورسز کے علاوہ دیگر حلیف ممالک مثلا جرمنی اور فرانس کی سپورٹ بھی حاصل ہے، یہ جنگجو بآسانی شمالی شہر الرقہ کی جانب پیش قدمی کرسکتے ہیں جس پر داعش نے قبضہ کر رکھا ہے۔
آخر میں جاوش اوگلو نے واشنگٹن حکومت پر زور دیا کہ ترکی کو وہ میزائل شکن بیٹریاں فراہم کی جائیں جن کا اس نے وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ساز و سامان اگست سے پہلے حوالے نہیں کیا جائے گا ، ساتھ ہی اوگلو نے اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ امریکا اپنے وعدے پورے نہیں کررہا ہے ۔
-
ترکی 3000میں یورپی یونین کا رکن بنے گا: کیمرون کی پھبتی
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو اپنے ملک کی مستقبل میں یورپی یونین میں شمولیت ...
بين الاقوامى -
ترک طیاروں کے ترکی وعراق میں حملے،10کرد باغی ہلاک
ترکی کے لڑاکا طیاروں نے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں اور شمالی عراق میں باغی گروپ ...
بين الاقوامى -
ترکی نے شام ،عراق میں 3000 داعشی جنگجو ہلاک کر دیے
کوئی اور ملک ترکی کی طرح داعش کے خلاف نہیں لڑرہا ہے: صدر ایردوآن
بين الاقوامى