.

امریکا،''بُرے'' برطانیہ پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا: خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ ان کے ملک کا علاقائی امور پر اپنے حریفوں امریکا اور ''بُرے'' برطانیہ سے تعاون کو کوئی ارادہ نہیں ہے۔

خامنہ ای نے امریکا پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں طے پائے جوہری معاہدے کے بارے میں پُرعزم نہیں ہے۔ ایران کی جانب سے حساس جوہری کام کی معطلی کے بعد امریکا اور مغربی ممالک نے تہران پر عاید کردہ اقتصادی پابندیاں ختم کردی تھیں۔

خامنہ ای نے جمعہ کو سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر کردہ تقریر میں کہا ہے کہ ''امریکا نے سنہ 1979ء میں انقلاب کے بعد سے ایران کی دشمنی جاری رکھی ہوئی ہے۔بُرے برطانیہ اور شیطان بزرگ (امریکا) پر بھروسا کرنا ایک بڑی غلطی ہوگی''۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ ''امریکا کے ساتھ علاقائی بحرانوں پر کوئی تعاون نہیں کریں گے۔ ان کے ایران کے مفادات سے 180 ڈگری مخالف مقاصد ہیں''۔

انھوں نے ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی کی برسی کے موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر ہم مضبوط ،متحد اور انقلابی رہتے ہیں تو جو ایران کو ڈرانے، دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں،وہ کامیاب نہیں ہوں گے''۔

واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں جاری بحران میں امریکا اور ایران کے مشترکہ مفادات ہیں۔ماضی میں ایران ٹیکٹیکلی افغانستان میں القاعدہ اور عراق میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون کرچکا ہے۔

امریکا اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادی ممالک ایران پر دہشت گردی کی حمایت اور شام ،یمن اور عراق سمیت علاقائی ریاستوں کے داخلی امور میں مداخلت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں۔

آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انسانی حقوق اور دہشت گردی کو اپنے وعدوں کو پورا نہ کرنے کے لیے ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔