یوسف اسلام کا مہاجر بچوں کے نام منفرد سنگیت
مہاجر کیمپ کے دورے سے معروف سنگر کا دل بھر آیا
اسلام قبول کرنے والے برطانوی گلوکار اور نغمہ نگار یوسف اسلام المعروف’کیٹ اسٹیونس‘نے یورپ آنے والے مہاجر بچوں کے مقدر کو اجاگر کرنے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا ہے۔یوسف اسلام کی اس مہم کا آغاز اُن کے ایک نئے سولو گیت کے اجرا سے ہوا ہے اور انہوں نے ایک چیریٹی یا خیراتی کانسرٹ کے منصوبہ کا بھی اعلان کیا ہے۔
یوسف اسلام کے اس نئے گیت کا عنوان ہے He Was Alone اور اس گیت کو ایک ویڈیو کے ساتھ جاری کیا گیا ہے۔ اس ویڈیو میں ایک لڑکےکو دکھایا گیا ہے جو اپنے فیملی سے محروم ہو چُکا ہے۔ یہ لڑکا ایک سڑک حادثے میں انتقال کر جاتا ہے اور انتقال کے بعد اس کے پاس سے ایک پتھر برآمد ہوتا ہے جس پر عربی کا ایک لفظ ’ولد‘ یعنی بیٹا لکھا ہوتا ہے۔
بہبود اطفال کے ادارے 'سیو دا چلڈرن 'کے اندازوں کے مطابق گزشتہ برس اپنے بل بوتے پر یورپ آنے اور اس کٹھن سفر کے دوران اپنی فیملی سے محروم ہو جانے والے مہاجر اور تارک وطن بچوں کی تعداد 95 ہزار ہے۔
ستاسٹھ سالہ یوسف اسلام جو 60 اور 70 کے عشرے میں اپنے گیت ’مون شیڈو‘ اور وائلڈ ورلڈ‘ کے سبب غیر معمولی طور پر مقبول ہوئے تھے، کا کہنا ہے کہ یورپی آنے والے مہاجرین کے مسائل اور اس بحران کے ساتھ اُن کی وابستگی کی وجہ بحران زدہ عرب ملک شام کے نزدیک جنوبی ترکی کے سرحدی علاقے میں قائم مہاجر کیمپ کا اُن کا دورہ بنا۔ وہ کہتے ہیں،’’اتنے بڑے انسانی المیے سے دوچار انسانوں کو خاموش تماشائی بنے دیکھتے رہنا اور ان کے لیے کچھ نہ کرنا میرے لیے بہت ہی مشکل تھا۔‘‘
یوسف اسلام ان مہاجر بچوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اپنی اس مہم کے بارے میں وہ کہتے ہیں،’’میں دنیا بھر کے انسانوں کے دلوں کے دریچے کھولنا چاہتا ہوں تاکہ وہ ان لاتعداد مہاجر بچوں کے غم و الم کا احساس کر سکیں، اُن کم سن بچوں کے غموں کو جانیں جن کی آوازیں نہیں سُنی جاتیں۔ جنگوں اور بحرانوں کے سبب پیدا ہونے والے پناہ گزینوں کے المیے سے دوچار یہ بچے اپنے وطنوں سے بہت دور ہوا کے شعلے دار جھونکوں سے لڑ رہے ہیں۔‘‘
’کیٹ اسٹیونس‘ نے 1977ء میں اسلام قبول کر لیا تھا اور تب سے وہ یوسف اسلام کہلاتے ہیں۔ انہوں نے دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی موسیقی کو ترک کر دیا تھا۔ وہ قریب 30 سال سے میوزک کی صنعت سے دور ہو چُکے ہیں۔ اُن کا گیت He Was Alone اور 14 جون کو لندن میں ہونے والے کانسرٹ اُن کی اُس وسیع تر مہم کا حصہ ہیں، جو یوسف اسلام نے you are not alone کے نام سے یورپ آنے والے مہاجر بچوں کے لیے شروع کی ہے۔
یوسف اسلام نے سن 2000 میں ایک فلاحی مہم small kindness کے نام سے شروع کی تھی، جس کا مقصد دنیا بھر میں انسانی امداد کی فراہمی تھا اور اس مہم میں چیریٹی سیو دی چلڈرن اور Penny Appeal مل کر مہاجر بچوں کے لیے فنڈ جمع کر رہے ہیں۔
دبئی میں مقیم یوسف اسلام کا کہنا ہے،’’میں نے اپنی آواز کے ذریعے دنیا بھر کے انسانوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ ہر ایک مہاجر، خاص طور سے مہاجر بچوں کے لیے اپنے دل اور دروازے کھولیں۔ یہ مہاجر بچے اپنے اُس مستقبل سے نا اُمید اور نا مراد ہو چُکے ہیں جس کا خواب شاید انہوں نے کبھی دیکھا ہو گا۔‘‘
-
لبنان میں مہاجر شامی دوشیزاؤں سے جسم فروشی
جنگ سے تباہ حال شام کی ان نوجوان لڑکیوں کو یقین دلایا گیا تھا کہ انہیں لبنان کے ...
مشرق وسطی -
شامی مہاجر قرآن پاک کے خشبی نسخہ کی تیاری میں مصروف
لکڑی کے بنائے جانے والے قرآنی نسخے کا وزن 33 ٹن ہو گا
ایڈیٹر کی پسند -
مشہور گلوکار سامی یوسف کا شامی مہاجر کیمپ کا دورہ
فرمائش پر گیت سنا کر اداس ماحول کو خوشگوار بنا دیا
مشرق وسطی -
لبنان میں مقیم شامی مہاجر بچوں کو قحط کے خطرے کا سامنا
لبنان میں مہاجرکیمپوں میں مقیم قریباً دو ہزار بچوں کو اس وقت خوراک کی شدید قلت کا ...
مشرق وسطی -
یرموک کیمپ میں ننھی بچی جان بچانے کے لیے عالمی مدد کی منتظر!
دمشق میں فلسطینی مہاجر کیمپ کا چھ ماہ سے محاصرہ جاری، متعدد ہلاکتیں
مشرق وسطی -
یورپی مہاجر کیمپوں میں خواتین، بچوں سے جنسی زیادتی
بشار الاسد کی عوام دشمن پالیسیوں اور کھلی جنگ سے جان بچا کر ہجرت کرنے والی خواتین ...
بين الاقوامى