لندن کے میئر کو روزے میں کس چیز کی طلب زیادہ ہوتی ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لندن کے پہلے نو منتخب پاکستانی نژاد مسلمان مئیر صادق خان نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ رمضان کے سحر وافطار کا اہتمام مساجد کے علاوہ یہودی معبدوں اور گرجا گھروں میں بھی کریں گے تاکہ بین المذاہب امن وبرداشت کو فروغ دیا جا سکے۔

برطانوی دارالحکومت لندن سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت اخبار "گارجیئن" میں صادق خان نے ایک مضمون میں تحریر کیا ہے کہ "رمضان کی آمد ہے اور میں اس امر سے واقف ہوں کہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مذہب کے بارے میں شکوک وشبہات اور اسرار کے بادلوں کو ہٹا دیا جائے۔"

لندن کے مئیر نے ماہ رمضان میں اپنی سرگرمیوں کا احوال بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کبھی کبھی ڈر لگتا ہے۔ میری ڈائری سرگرمیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ابھی یورپی یونین میں برطانیہ کے رہنے سے متعلق ریفرنڈم بھی آ رہا ہے اور مجھے اس موقع پر سٹیج پر ہی پانی پی کر اپنا روزہ کھولنا پڑے گا۔"

رمضان میں اپنی پسند ناپسند کا ذکر کرتے ہوئے لندن کے نو منتخب مئیر کا کہنا تھا کہ انہیں رمضان کے دوران کافی کی یاد سب سے زیادہ ستائے گی۔

صادق خان کا کہنا تھا کہ"لوگوں کے لئے ایک دوسرے کے عقائد کو سمجھنے کا سب سے بہترین طریقہ دوسروں کے تجربات سے سیکھنا ہے۔ رمضان اس حوالے سے ایک اچھی مثال ہے کیوںکہ آپ کسی دوسرے فرد کے ساتھ کھانا کھانے، غیر مسلموں کو افطار کی دعوت دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ مذہبی رسومات ایک عام روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں اور اس میں کوئی انہونی بات نہیں ہے۔"

برطانیہ میں موجود مسلمان 19 گھنٹے پر محیط روزے رکھیں گے جس کے بارے میں صادق خان کو کچھ خدشات لاحق تھے مگر وہ اپنے مقالے میں روزے رکھنے کے بارے میں پر جوش تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں