حماس سے ملاقاتیں جاری رہیں گی: ترک وزیر خارجہ
ترکی خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کے ضمن میں فلسطینی جماعت حماس کی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے گا اور یہ ملاقاتیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہیں۔
یہ بات ترک وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو نے بدھ کو ایک بیان میں کہی ہے۔ان کے اس بیان سے قبل یہ اطلاعات بھی سامنے آچکی ہیں کہ ترکی اور اسرائیل چھے سال کے بعد معمول کے تعلقات کی بحالی کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
یادرہے کہ اسرائیلی کمانڈوز نے 2010ء میں ترکی کے غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے جانے والے بحری امدادی قافلے پر حملہ کردیا تھا جس کے بعد ترکی نے صہیونی ریاست سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے۔اسرائیلی کمانڈوز کے ترک امدادی جہاز ماوی مارمرا پر دھاوے کے نتیجے میں دس ترک کارکنان جاں بحق ہوگئے تھے۔
ترکی نے اس واقعے پر اسرائیل سے معافی ،مقتولین کے خاندانوں کو خون بہا دینے اور غزہ کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا جبکہ اسرائیل نے ترکی سے اپنے ہاں حماس کی سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔