.

مدینہ منورہ میں خودکش دھماکا کرنے والے سے خاندان کا اظہارِ لاتعلقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی شہری فہد مسلم حماد النجیدی البلوی نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے نزدیک خودکش دھماکا کرنے والے اپنے سگے بھائی نائر البلوی سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کردی ہے اور کہا ہے کہ وہ الحرم النبوی کے احاطے میں دہشت گردی کی کارروائی کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ ان کے بھائی کا اقدام اسلامی تعلیمات کے منافی تھا۔ان کے خاندان کے تمام ارکان نائر سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں اور اس کے جرم کی مذمت کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ نائر نے تین سال قبل بارڈر گارڈز میں شمولیت اختیار کی تھی۔بعد میں اس ملازمت کو خیرباد کہہ کر تبوک میں رہنا شروع کردیا تھا۔وہ واجح گورنری میں اپنے والدین سے ملنے کے لیے آتا رہتا تھا۔گذشتہ شعبان میں وہ ان کے ساتھ ہی تھا اور 25 رمضان کو اس نے انھیں فون پر بتایا تھا کہ وہ مکہ مکرمہ جارہا ہے۔

فہد نے اپنی بہن کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس نے اپنے اس بھائی کے موبائل میں دہشت گردوں کے کلپس دیکھے تھے اور اس نے فوری طور پر اس کے بارے میں سکیورٹی ایجنسیوں کو مطلع کردیا تھا۔

اپنے بیٹے کی مذموم کارروائی پر سخت افسردہ اور نادم نائر کے والد کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اپنے غصے کے اظہار کے لیے کوئی الفاظ نہیں ہیں اور ان کے بیٹے نے جو کچھ کیا ہے،اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

انھوں نے کہا: ''مجھے بیٹے کے اس جرم پر سخت مایوسی اور افسوس ہوا ہے۔وہ میرا یا میرے قبیلے کا نمائندہ نہیں ہے۔میرا تمام خاندان ملک کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کرتا ہے''۔

نائر کے چچا زکی حمادالبلوی کا کہنا تھا کہ ''ان کے بھتیجے کے مجرمانہ فعل کا مذہب اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔وہ ایک مجرم تھا اور اس نے رمضان کے مقدس مہینے میں تمام اقدار اور اصولوں کی نفی کرتے ہوئے مسلمانوں کا خون بہایا ہے''۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کا خاندان قوم کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف متحد ہوکر اٹھ کھڑے ہوں گے۔

درایں اثناء سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصورالترکی نے بتایا ہے کہ نائر نے اس سال متعدد مرتبہ بیرون ملک سفر کیا تھا۔انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث بمباروں کے دہشت گرد تنظیموں اور خاص طور پر داعش سے تعلق میں کوئی شُبہ نہیں رہا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف کافی ثبوت اکٹھے کر لیے گئے ہیں اور ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ داعش کے حامی رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کی مجموعی سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر لوگ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں۔حملوں سے متعلق تمام سچائی کو سامنے لایا جائے گا اور اس کے بعد ضروری قانونی چارہ جوئی شروع کی جائے گی۔

منصورالترکی نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ گرفتار کیے گئے بارہ پاکستانیوں کے داعش سے روابط تھے۔جدہ خودکش بمبار نے دھماکے کے لیے جو کیمیائی مواد نائیٹرو گلیسرین استعمال کیا تھا ،وہی قطیف اور مدینہ میں بم دھماکوں کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

ایک کیمیائی ماہر ہشام الشرقاوی نے بتایا ہے کہ اس مواد کا ایک جزو ادویہ کی دکانوں اور فارمیسیوں میں موئسچرائزنگ کریم کے طور پر عام استعمال کیا جاتا ہے۔اس کو بمباروں نے دھماکا خیز مواد میں تبدیل کیا تھا۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دھماکا خیز مواد والی بیلٹس ایک ہی ذریعے نے مہیا کی تھیں۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ گلیسرین دھماکوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔جب اس کے مشمولہ مواد کو انتہائی درجہ حرارت کے قریب لایا جاتا ہے تو یہ فوری طور پر دھماکے سے پھٹ جاتا ہے۔اس طرح کے مواد کے اجزاء روزمرہ استعمال کی مختلف اشیاء کی شکل میں عام دستیاب ہیں۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں دہشت گردی کے حالیہ متعدد حملوں میں نائیٹرو گلیسرین ہی خودکش جیکٹس کی تیاری میں استعمال کی گئی تھی۔