ملائشیا :طلبہ کی ریلی میں وزیراعظم کی گرفتاری کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں طلبہ نے بدعنوانیوں کے خلاف ایک ریلی نکالی ہے اور وزیراعظم نجیب رزاق کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس کی جانب سے اجتماعات پر پابندی کے باوجود طلبہ کی ریلی میں ایک ہزار سے زیادہ افراد شریک تھے۔وہ کوالالمپور میں دو مقامات پر جمع ہوئے اور پھر تاریخی آزادی چوک کی جانب مارچ کیا۔انھوں نے وزیراعظم نجیب رزاق کے خاکوں والے پوسٹر پکڑ رکھے تھے اور وہ ان کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے تھے۔

ملک میں طلبہ کارکنان کی جانب سے اپنی نوعیت کا یہ پہلا مظاہرہ ہے۔پولیس نے آزادی چوک کے ارد گرد رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں جس کی وجہ سے مظاہرین اس کے نزدیک جمع ہوئے اور وہ تین گھنٹے کے احتجاج کے بعد پُرامن طور پر منتشر ہوگئے۔حزب اختلاف کی جماعتوں اور شہری حقوق کے گروپوں نے بھی طلبہ کی اس ریلی کی حمایت کی ہے۔

امریکی محکمہ انصاف نے گذشتہ ماہ نجیب رزاق کے قائم کردہ ایک ملائشین فنڈ میں بدعنوانیوں کی تحقیقات کی رپورٹ جاری کی تھی اور کہا تھا کہ اس فنڈ میں سے کم سے کم ساڑھے تین ارب ڈالرز چُرالیے گئے ہیں۔ اس نے ایک ارب تیس کروڑ ڈالرز کی رقم ضبط کرنے کے لیے یہ تحقیقات شروع کی تھی اور کہا تھا کہ یہ رقم امریکا میں اثاثوں کی خریداری میں استعمال کی گئی تھی۔

اس نے کہا تھا کہ ستر کروڑ ڈالرز سے زیادہ رقم ''ملائشین عہدے دار اوّل '' کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی تھی۔اس نے اس عہدے دار کا نام نہیں لیا تھا لیکن اس سے بظاہر مراد نجیب رزاق ہی تھے۔اس سنگین الزام کے ردعمل میں وزیراعظم نجیب نے کسی غلط کاری یا بدعنوانی میں ملوّث ہونے کی تردید کی تھی۔

طلبہ لیڈروں نے احتجاج کے دوران وزیراعظم نجیب ،ان کی اہلیہ رسمہ منصور ،سوتیلے بیٹے رضا شاہریز عبدالعزیز اور ایک کاروباری شخصیت لو طائیک جو کے پتلے پکڑ رکھے تھے اور انھیں ایک جعلی جیل میں ڈالا گیا تھا۔رضا مووی فلم پروڈکشن اسٹوڈیو ریڈ گرینائٹ پکچرز کے شریک بانی ہیں اور لو طائیک نجیب خاندان کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ان دونوں کے نام امریکی محکمہ انصاف کی دستاویزات میں بدعنوانیوں کے ضمن میں آئے ہیں۔

الالمپور اور ملک کے دوسرے شہروں میں قبل ازیں بھی وزیراعظم کی مبینہ بدعنوانیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے اور مظاہرین نے ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا جس پر حکومت نے دھمکی دی تھی کہ ان مظاہروں کے منتظمین کو قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہوسکتا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں ملائشیا سے متعلق ایک رپورٹ کی اشاعت کے بعد سے وزیراعظم نجیب رزاق کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور انھیں حکومت مخالفین کی کڑی تنقید کا سامنا ہے۔اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ 2013ء کے آغاز کے بعد وزیراعظم کے ذاتی بنک اکاؤنٹ میں قریباً ستر کروڑ ڈالرز جمع کرائے گئے تھے۔

ملائشین وزیراعظم نے ابتدا میں اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کردیا تھا لیکن اس کے بعد ان کی کابینہ کے بعض وزراء نے رقوم کی ان کے بنک کھاتے میں منتقلی کا اعتراف کیا تھا۔البتہ ان کو ''سیاسی عطیات'' قرار دیا تھا جو ان کے بہ قول مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے نامعلوم ذرائع نے بھیجی تھیں۔تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں