.

امریکا کا تنوع ہی اس کی مضبوطی کا مظہر ہے: صدر اوباما

دہشت گردوں کو ملک کو تقسیم کرنے کی اجازت نہ دی جائے: نائن الیون کی برسی پر خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر براک اوباما نے نائن الیون حملوں کی پندرھویں برسی کے موقع پر امریکیوں پر زوردیا ہے کہ وہ قوم کے تنوع کو قبول کریں اور دہشت گردوں کو ملک کو تقسیم کرنے کی اجازت نہ دیں۔ان کا کہنا ہے کہ امریکا کا تنوع ہی اس کی مضبوطی کا مظہر ہے۔

امریکی صدر نے پینٹاگان میں منعقدہ میموریل سروس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''القاعدہ اور داعش ایسی انتہا پسند تنظیمیں بخوبی جانتی ہیں کہ وہ امریکا ایسی عظیم اور مضبوط قوم کو شکست دینے کے کبھی قابل نہیں ہوں گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''وہ ہمیں دہشت زدہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اس طرح وہ اتنا خوف پیدا کردیں کہ ہم باہم دست وگریباں ہوجائیں۔اس لیے آج یہ بہت ناگزیر ہے کہ ہم بطور قوم اپنے کردار کا اعادہ کریں کیونکہ ہمارا تنوع اور ہمارا ورثہ ہماری کمزوری نہیں ہے بلکہ یہ آج بھی اور ہمیشہ ہماری مضبوطی کی دلیل رہے گا''۔

صدر اوباما نے کہا کہ ''یہ امریکا ہے جس پر 11 ستمبر کی صبح حملہ کیا گیا تھا اور یہ امریکا ہی ہے جس کے لیے ہمیں سچا ہونا ہوگا''۔

صدر اوباما نے قبل ازیں وائٹ ہاؤس میں نائن الیون کے حملوں میں مرنے والوں کی یاد میں ایک تقریب میں شرکت کی ہے۔اس تقریب میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی تھی۔بعد میں انھوں نے پینٹاگان میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی ہے۔واضح رہے کہ 11 ستمبر 2001ء کو پینٹاگان کو بھی طیارہ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔پینٹاگان اور نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر القاعدہ کے طیارہ حملوں میں کم سے کم تین ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

امریکی صدر نے ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمان مخالف اور تارکین وطن مخالف تند وتیز بیانات کو بالواسطہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ ''امریکی دنیا کے ہر کونے کھدرے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔وہ ہر نسل ،ہرمذہب اور ہر پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا دفاع مضبوط ہونے کی وجہ سے دہشت گرد اب چھوٹے پیمانے پر اور تباہ کن انداز میں حملے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔انھوں نے بوسٹن میں میراتھن میں بم دھماکے ،اورلینڈ میں ایک نائٹ کلب میں قتل عام اور سان بارڈینو میں فائرنگ سے ہلاکتوں کا حوالہ دیا ہے۔