سعودی عالم دین پرفلپائن میں قاتلانہ حملے میں ایران ملوث
سعودی عرب کے ممتاز عالم دین الشیخ عایض القرنی نے کہا ہے کہ چند ماہ قبل فلپائن میں ان پر ہونے والے ایک ناکام قاتلانہ حملے میں ایران ملوث تھا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک مختصر فوٹیج میں الشیخ عائض القرنی نے کہا ہے کہ فلپائنی حکام کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ ان پر قاتلانے حملے میں ایران کا ہاتھ تھا۔
سعودی عالم دین کا مزید کہنا ہے کہ فلپائن میں متعین سعودی سفیر عبداللہ البصیری نے انہیں قاتلانہ حملے کی تحقیقات کے بارے میں مطلع کیا ہے اور کہا ہے کہ فلپائنی حکام کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ قاتلانہ حملے میں ایران کا ہاتھ تھا۔
الشیخ القرنی کا کہنا ہے کہ ایران حجاج ومعتمرین اور عام مسلمانوں کو حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ اس لیے ایران ہمارا دشمن ہے۔
خیال رہے کہ الشیخ عائض القرنی گذشتہ مارچ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فلپائن کے دورے پر تھے جہاں ان پر فائرنگ کی گئی تھی۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے تھے۔
-
فلپائن: سعودی عالم الشیخ عائض القرنی پر حملے کی تحقیقات
فلپائن میں حکام معروف سعودی عالم دین شیخ عائض القرنی پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات ...
بين الاقوامى -
چاہنے والوں کے نام ... شیخ عائض القرني کا پیغام
سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ عائض القرنی نے دنیا بھر میں اپنے عقیدت مندوں اور ...
مشرق وسطی -
الشیخ عائض القرنی فلپائن میں فائرنگ سے زخمی
سعودی سکالر کے متعدد مصاحبین کے ہلاک ہونے کی اطلاعات
بين الاقوامى