.

جاسٹا سے امریکا ہی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا: سابق سی آئی اے چیف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے) کے سابق ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے کہا ہے کہ انصاف بر خلاف اسپانسرز آف ٹیررازم ایکٹ ( جاسٹا) سے امریکا ہی سب سے زیادہ متاثر ہوگا کیونکہ اس کے ذریعے خود مختاری کے اصول کو تج دیا گیا ہے۔

وہ سی این این کے جی پی ایس شو میں فرید زکریا کے ساتھ گفتگو کررہے تھے۔انھوں نے کہا :''آپ نے دنیا کو ایک ایسی راہ پر لگا دیا ہے جس پر چل کر روایتی تحفظ اور خود مختارانہ استثنا وغیرہ ختم ہو کر رہ جائیں گے''۔

امریکاکے قانونی نظام کے تحت اس وقت ملکوں کو خود مختارانہ استثنا حاصل ہے۔اس قانونی اصول کے تحت ان ملکوں اور ان کے سفارت کاروں کے خلاف امریکا کا قانونی نظام کے تحت قانونی چارہ جوئی نہیں کی جاسکتی ہے لیکن امریکی کانگریس میں جاسٹا کی منظوری کے بعد اب یہ استثنیٰ ختم ہو کر رہ جائے گا۔

سی این این کے اسی پروگرام میں شریک ایک قانونی ماہر جیف ٹوبین نے کہا کہ ''یہ تو دیوار میں ایک سوراخ ہے۔ پہلے روایتی طور پر ایک ملک سے تعلق رکھنے والے افراد کو دوسرے ممالک کی حکومتوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل نہیں تھا۔یہ تصور خود مختارانہ استثنا کہلاتا ہے اور یہ بین الاقوامی قانون میں ایک اہم اصول ہے''۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایران کے ساتھ مغرب کے جوہری معاہدے کی وجہ سے پہلے ہی تناؤ پایا جا رہا تھا۔اب اس قانون سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید کشیدگی کا شکار ہوجائیں گے۔

سعودی کابینہ نے سوموار کے روز ہی اپنے اجلاس کے بعد خبردار کیا تھا کہ امریکی کانگریس میں منظور کردہ حالیہ نائن الیون قانون (جاسٹا) سے ملکوں کو حاصل خود مختاری کا استثنا متاثر ہوگا اور اس سے امریکا سمیت تمام ممالک متاثر ہوں گے۔

امریکی کانگریس میں منظور کردہ جاسٹا قانون کے تحت نائن الیون کے طیارہ حملوں میں ہلاک شدگان تین ہزار افراد کے لواحقین اور زخمی افراد کے خاندان سعودی عرب کی حکومت کے خلاف مالی ہرجانے کے حصول کے لیے قانونی چارہ جوئی کرسکیں گے اور اس کا جواز محض یہ ہے کہ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگان پر طیاروں سے حملے کرنے والے القاعدہ کے انیس ہائی جیکروں میں سے پندرہ کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔