.

مراکش : پارلیمانی انتخابات میں حکمراں اسلامی جماعت کی جیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش میں جمعے کو منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں حکمراں اعتدال پسند اسلامی جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں جیت لی ہیں۔

مراکش کی وزارت داخلہ کی جانب سے ہفتے کے روز اعلان کردہ غیر حتمی نتائج کے مطابق حکمراں انصاف اور ترقی پارٹی (پی جے ڈی) نے 395 میں سے 125 نشستیں جیتی ہیں۔ اس کی قریب ترین حریف لبرل حزب اختلاف کی مصدقہ اور جدت پسند پارٹی (پام) رہی ہے۔ اس نے 102 نشستیں جیتی ہیں۔

ملک کی قدیم ترین جماعت استقلال پارٹی 45 نشستوں پر کامیابی حاصل کر سکی ہے۔ اسی جماعت نے فرانس سے آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ ایوان نمائندگان کی 395 نشستوں میں سے باقی نشستیں تیس دوسری چھوٹی جماعتوں کے حصے میں آئی ہیں۔

مراکش کے وزیر داخلہ محمد حصد کا کہنا ہے کہ جمعہ کو انتخابات شفاف انداز میں منعقد ہوئے ہیں۔انھوں نے حزب اختلاف اور حزب اقتدار کی جانب سے پولنگ کے دوران فراڈ کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

انھوں نے دارالحکومت رباط میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ پارلیمان انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح 43 فی صد رہی ہے اور قریباً ساڑھے 67 لاکھ ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔

مراکش کے انتخابی نظام کے تحت کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کرسکتی ہے اور سب سے زیادہ نشستیں لینے والی جماعت کو مخلوط حکومت بنانا پڑتی ہے۔شاہِ مراکش زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سے وزیراعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔

پی جے ڈی نے سنہ 2011ء میں منعقدہ انتخابات میں بھی برتری حاصل کی تھی اور شاہ محمد ششم نے جماعت کے سربراہ عبدالاالہ بن کیران کو وزیراعظم نامزد کیا تھا۔انھوں نے گذشتہ پانچ سال کے دوران ملکی معیشت کی بہتری اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے لیے وسیع تر اصلاحات کی ہیں۔ان کی جماعت نے بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے بھی مہم چلائی تھی جس کی وجہ سے عوامی سطح پر اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

پی جے ڈی نے قبل ازیں پولنگ کے بعد ایک بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ اس کو حکام کی جانب سے پام کی حمایت میں ووٹ فراڈ کی متعدد رپورٹس پر تشویش لاحق ہے۔اس نے وزارت داخلہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی تھی۔پام کو شاہ محمد ششم کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

پام کے ترجمان خالد عدنون نے اس بیان پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا تھا لیکن یہ کہا تھا کہ ان کی جماعت نے ووٹنگ میں بے ضابطگیوں سے متعلق پچاس انتخابی عذر داریاں دائر کی ہیں اور ان میں بعض پی جی ڈی کی طنجہ میں دھاندلیوں سے متعلق ہیں۔

مراکش میں ایوان نمائندگان کے یہ انتخابات آئینی بادشاہت کے لیے ایک امتحان تھے۔شاہ محمد ششم دوم نے پانچ سال قبل ملک میں جمہوری تبدیلیوں کے لیے احتجاجی مظاہروں کے بعد منتخب حکومت کو بعض محدود اختیارات سونپ دیے تھے۔شمالی افریقا کے اس ملک میں گذشتہ ساڑھے تین سو سال سے بادشاہت قائم ہے۔