.

ٹرمپ کو چیلنج کرنے والی خاتون سے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کے روز امریکی ریاست میزوری کے شہر سینٹ لوئس کی واشنگٹن یونی ورسٹی میں امریکی صدارتی امیدواروں ڈونلڈ ٹرمپ اور ہیلری کلنٹن کے درمیان دوسرے مناظرے کا انعقاد ہوا۔ مناظرے کے دوران ایک مسلمان خاتون نے ٹرمپ اور ان کی خاتون حریف سے اسلامو فوبیا کے متعلق سوال کیا.. اور ملک میں پروان چڑھتے اس مظہر کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں امیدواروں کی جانب سے امریکا کے مسلمانوں کی مدد کے لیے ترتیب دی گئی پالیسی کے بارے میں بھی پوچھا۔

فلسطینی نژاد امریکی خاتون غربہ حامد جو ریاست میزوری میں پیدا ہوئیں اور پروان چڑھیں۔ دو برس قبل وہ ریاست ايلينوے منتقل ہو گئی تھیں۔ غربہ نے دونوں امیدواروں سے یہ سوال پوچھا کہ "میں امریکا کے 33 لاکھ مسلمانوں میں سے ایک ہوں۔ انتخابات کے اختتام کے بعد اسلامو فوبیا کے تناظر میں ہمیں ملک کے لیے خطرہ شمار کیے جانے کے نتائج سے نبرد آزما ہونے کے لیے آپ لوگ کس طرح ہماری مدد کریں گی"۔

غربہ حامد ڈونلڈ ٹرمپ کے جواب سے مطمئن نہیں ہوئیں جس میں ٹرمپ نے کہا کہ اسلام سے خوف امریکا میں ہمیشہ رہنے والا مسئلہ ہے۔ انہوں نے اسلاموفوبیا کو "عار" قرار دیا۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے امریکا کے مسلمانوں کو امریکیوں کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کے بارے میں معلومات فراہم نہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

غربہ حامد نے جو دو بچوں کی والدہ ہیں، العربیہ ڈاٹ نیٹ کی انگریزی ویب سائٹ سے خصوصی گفتگو میں باور کرایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ غربہ کے مطابق بجائے یہ کہ ٹرمپ واضح کرتے کہ امریکا میں مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے حوالے سے وہ کیا پیش کریں گے.. انہوں نے امریکا کے تمام مسلمانوں پر الزام عائد کر ڈالا کہ یہ لوگ ملک کے لیے خطرہ بننے والے افراد کے بارے میں معلومات کو چھپاتے ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ٹرمپ نے امریکا میں مسلمانوں پر شدت پسندی کے بارے میں اطلاع نہ دینے کا الزام لگایا ہے۔

سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نے مناظرے میں غربہ حامد کے ابتدائی صفوں میں موجود ہونے کی وجہ پوچھی۔ غربہ کے مطابق اس کی بنیادی وجہ ہے کہ وہ ان امریکیوں میں سے ہیں جنہوں نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ وہ کس امیدوار کو منتخب کریں گی۔ بالخصوص جب کہ دونوں امیدوار مسئلہ فلسطین سمیت متعدد مرکزی مسائل اور امور میں امریکی مسلمانوں کو سپورٹ کرنے والے مواقف نہیں رکھتے۔