.

ترکی، خلیجی ممالک کا خطے میں ایرانی مداخلت بند کرانے کا مطالبہ

عالمی برادری شام میں قتل عام بند کرائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ روز سعودی عرب میں خلیج تعاون کونسل [جی سی سی] اور ترکی کی کابینہ کے ارکان کے مشترکہ اجلاس میں خطے میں ایران کی بڑھتی مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ترکی اور خلیجی ممالک نے ایرانی مداخلت کے خلاف یکساں موقف اختیار کیا ہے۔ جی سی سی اور ترک حکومت کے مشترکہ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں ایران سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ خطے میں مداخلت کی پالیسی ترک کردے۔

سعودی عرب کے شہر ریاض میں منعقدہ اجلاس کے دوران خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں اور ترک وزیر خارجہ نے شام اور عراق کی سالمیت اور وحدت کی ضرورت سے بھی اتفاق کیا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں عالمی سلامتی کونسل اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شام میں جاری قتل عام بند کرانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔

اجلاس میں شام کے جنگ زدہ شہر حلب میں جنگ بندی کی مساعی کو اسد رجیم اور اس کے حلیفوں کی جانب سے سبوتاژ کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ خلیجی ممالک اور ترکی نے شام میں قیام امن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی اسیٹفن دی میستورا کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

ترکی اور خلیجی ممالک کے وزراء خارجہ نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے بحری جہاز پر حملے کی بھی مذمت کی گئی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں خلیج تعاون کونسل کے وزراء اور ترک کابینہ کے ارکان کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ترک وزیرخارجہ مولود چاوش اوگلو، سعودی عرب کے عادل الجبیر اور دیگر وزراء خارجہ نے شرکت کی۔