.

ایران میں دوران حراست تشدد کے مناظر،ویڈیوز دوبارہ وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سماجی کارکنوں نے زیرحراست کارکنوں پر پولیس کے ہاتھوں ڈھائے جانے والے مٖظالم پر مبنی ویڈیوز ایک بار پھر انٹرنیٹ پرپوسٹ کی ہیں۔ یہ ویڈیوز ایرانی حکام کی طرف سے انسانی حقوق کی پاسداری کے دعوؤں کے بعد پوسٹ کی گئی ہیں، ان دعوؤں میں ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کررہاہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران، امریکا اور یورپی یونین میں شامل ممالک میں انسانی صورت حال کو مانیٹر کرنے میں سرگرم ہے۔ ایرانی عہدیدار زور دے کر کہہ رہے ہیں کہ ان کے ملک میں انسانی حقوق کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں ہو رہی ہے۔

حال ہی میں یورپی یونین کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے 10 شرائط سامنے آئی تھیں۔ ان دس شرائط میں ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی روک تھام کی شرط بھی شامل تھی۔ اس کے جواب میں ایرانی حکام نے کہا تھا کہ اگر مغرب ہمارے ہاں انسانی حقوق کی نگرانی کررہا ہے تو ہم مغرب اور امریکا میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کی مانیٹرنگ کررہے ہیں۔

ایرانی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر ان چیف جنرل مسعود جزائری نے ایک بیان میں ایرانی حکام پر زور دیا تھا کہ وہ مغرب میں خواتین کے بنیادی حقوق کی پامالیوں پر نظر رکھیں۔ ان کے اس بیان کے بعد ایران میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین سماجی کارکنان کی طرف سے سخت غم وغصے کا اظہار کیا گیا تھا۔ خواتین کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام خود کو خواتین کے حقوق کا بدترین استحصال کررہے ہیں مگر وہ دعویٰ مغرب میں خواتین کی حقوق کی مالیوں کی نگرانی کا کرتے ہیں۔

شہریوں پر پولیس کے ہاتھوں وحشانہ تشدد کے مناظر مبنی ویڈیوز میں سے ایک میں پولیس کو ماورائے عدالت برسر عام ملزمان کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ویڈیو سے معلوم ہوتا ہے کہ عراقی پولیس نے ہاتھ پاؤں باندھ کر ملزمان کو لاٹھیوں اور کوڑوں سے وحشیانہ طریقے سے پیٹنا شروع کر رکھا ہے۔

ایک دوسری ویڈیو میں ایک نوجوان کو لمبے بال رکھنے کے جرم میں پولیس کے ہاتھوں وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ ایرانی عدالتوں کی طرف سے بھی مردوں کے لیے لمبے بال رکھنے کو ایرانی انقلاب اور ان کی خود ساختہ اسلامی تعلیمات کے تحت خلاف قانون قرار دیا جاتا ہے۔

یو ٹیوب پر دوبارہ پوسٹ کی گئی ایک تیسری ویڈیو میں ایرانی پولیس اہلکار ایک نوجوان کے سر کے بال کاٹ رہے ہیں۔ بال کاٹنے کے لیے قینچی کے بجائے دوسرے اوزار استعمال کیے جا رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران میں معمولی معمولی نوعیت کے جرائم پر بھاری اور عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں۔ جسمانی اور ذہنی تشدد کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد بھی عام ہے۔ رہائی پانے والے بیشتر سیاسی کارکنان کا کہنا ہے کہ ایرانی پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کے گماشتے انہیں جسمانی اور نفسیاتی تشدد کے ساتھ جنسی ہراسانی کا بھی نشانہ بناتے رہے۔

دوران حراست قیدیوں کی اموات بھی عام ہیں۔ ان کی بنیادی وجہ ہولناک جسمانی تشدد ہے جو قیدیوں کو موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔ ایرانی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ بعض قیدیوں پر غیرضرروی تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کی جانیں چلی گئیں۔ ان میں صحافی ستاربہشتی، صحافیہ زھرا کاظمی، سیاسی کارکن غیبان عبیداوی، محسن روح الامینی، رامین قہرمانی اور 18 سالہ محمد کامرانی کا نام شامل ہے۔