حوثیوں نے اپنے حامی خودکش حملوں میں کیسے مروائے؟
یمن کی آئیںی حکومت کے خلاف سرگرم حوثی ملیشیا اور معزول صدر علی عبداللہ صالح کو جوابدہ باغیوں نے اپنی نیم خودکش کارروائیوں کا سلسلہ تاحال جاری رکھا ہوا ہے جس کا شکار بن کر ابتک لاتعداد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
یمن کی شمالی مغربی حجہ گورنری کے میدی محاذ پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اتوار کے روز شدید لڑائی ہو رہی ہے جس میں باغی ملیشیا کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔
ففتھ ملٹری ریجن سے وابستہ میڈیا سینٹر کے مطابق یمن کی قومی فوج اور عرب اتحاد کی حمایت یافتہ عوامی مزاحمت سے ہونے والی حالیہ لڑائی میں باغی ملیشیا کے 22 اہلکار ہلاک جبکہ 17 دوسرے زخمی ہوئے۔ یہ لڑائی میدی محاذ کے شمال مشرق میں ہوئی۔
دونوں ہمسایہ فوجیوں کے درمیان گھمسان کی اس جنگ میں 25 باغی ہلاک و زخمی ہوئے۔ مرنے والوں میں باغیوں کے اہم فیلڈ کمانڈر بھی شامل ہیں جو یمنی فوج کے توپخانے کی بمباری کا اجتماعی طور پر نشانہ بنے۔
ادھر عرب اتحاد میں شامل لڑاکا طیاروں نے حجہ گورنری کے شہر عبس کے مغربی علاقے میں الجر فارم ہاؤس میں قائم تربیتی مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 16 باغی ہلاک جبکہ 17 دوسرے زخم چاٹنے پر مجبور ہوئے۔ لڑاکا طیاروں نے حرض اور میدی کے علاقے میں باغی ملیشیا کے ٹھکانوں اور اسلحہ مراکز کو بھی نشانہ بنایا۔
باغیوں کے ہاتھوں تعز میں چھننے والے بعض مواقع کی واپسی کے لئے کی جانے والی کارروائی بری طرح ناکام ہوئی ہے حالانکہ معزول صدر علی عبداللہ صالح نے اس کارروائی کے لئے اسپیشل اور ایلیٹ فورس کے خصوصی تربیت یافتہ دستے بھی ارسال کئے تھے۔
کارروائی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت تعز شہر کے گرد کھلے آسمان تلے باغیوں کی لاشوں کے ڈھیر سے لگایا جا سکتا ہے۔ لاشوں کا یہ انبار مشرقی اور مغربی محاذوں پر زیادہ دیکھنے میں آیا۔