.

اوپیک کا 2008ء کے بعد پہلی بار تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم اوپیک نے 2008ء کے بعد پہلی مرتبہ تیل کی پیداوار میں کمی سے اتفاق کیا ہے۔اوپیک کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ویانا میں اجلاس کے دوران یہ اتفاق رائے ستمبر میں الجزائر میں منعقدہ اجلاس میں طے شدہ سمجھوتے کے مطابق ہوا ہے۔

اوپیک کے رکن ملک الجزائر نے تیل کی یومیہ پیداوار میں ساڑھے سات لاکھ بیرل کمی اور اس کو تین کروڑ پچیس لاکھ بیرل یومیہ کی سطح پر رکھنے کی تجویز پیش کی تھی اور تنظیم کے دوسرے ممالک نے اس سے اتفاق کیا تھا۔

اس وقت اوپیک کے رکن ممالک کی تیل کی یومیہ پیداوار تین کروڑ بتیس لاکھ بیرل ہے اور گذشتہ آٹھ سال میں پہلی مرتبہ اوپیک نے تیل کی پیداوار میں کمی کا فیصلہ کیا تھا تاکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں استحکام لایا جا سکے۔

اوپیک کے ایک ذریعے نے برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ تنظیم کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک سعودی عرب نے اپنی تیل کی پیداوار کم کرکے اس کو ایک کروڑ ساٹھ ہزار بیرل یومیہ کی سطح پر لانے سے اتفاق کیا ہے۔اکتوبر میں سعودی عرب کی خام تیل کی یومیہ پیداوار ایک کروڑ پانچ لاکھ چالیس ہزار بیرل تھی۔

اس ذریعے کے بہ قول رکن ممالک کے وفود خام تیل کی پیداوار میں توقع سے زیادہ کمی پر بھی غور کر رہے ہیں اور وہ چودہ لاکھ بیرل یومیہ تک کمی کرسکتے ہیں۔

ویانا میں اوپیک کے رکن ممالک کے اجلاس میں تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق رائے کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں آٹھ فی صد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے۔بدھ کو گرینچ معیاری وقت کے مطابق 1236 (جی ایم ٹی) پر لندن میں برینٹ نارتھ خام تیل کے جنوری کے لیے سودے 50.21 ڈالرز فی بیرل میں طے پائے تھے۔

اس طرح تیل کی قیمت میں گذشتہ روز کے مقابلے میں 3.83 ڈالرز یا 8.3 فی صد بیرل اضافہ ہوا ہے۔برینٹ خام تیل کے فروری کے لیے سودے 51.08 ڈالرز فی بیرل میں طے پائے ہیں۔ادھر امریکا میں ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مستقبل کے لیے خام تیل کے سودے 48.86 ڈالرز فی بیرل میں طے پائے ہیں۔اس طرح فی بیرل تیل کی قیمت میں 3.63 ڈالرز فی بیرل اضافہ ہوا ہے۔