.

جرمنی: افغان پناہ گزین کے ہاتھوں طالبہ کی عصمت دری اور قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں ایک برس سے مقیم افغان پناہ گزین کے طب کی طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور پھر قتل کر دینے کے لرزہ خیز اعتراف نے پورے معاشرے کوہلا کر رکھ دیا۔ 17 سالہ افغان نوجوان نے جرمنی کے شہر Freiburg میں ایک سیاست داں کی 20 سالہ بیٹی "ماریہ لیڈن برگر" کو پہلے درندگی کا نشانہ بنایا اور پھر گلا گھونٹ کر لاش کو ایک دریا میں پھینک دیا۔

جرمن حکام نے مذکورہ قاتل کے قانونی طور پر کم عمر ہونے کی وجہ سے اس کا نام اور تصویر جاری نہیں کی۔ تفصیلات کے مطابق افغان نوجوان نے 15 اکتوبر کو اسلحے کے زور پر ماریہ کو اس وقت اغوا کر لیا جب وہ اپنی یونی ورسٹی کے طلبہ کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد رات کے وقت سائیکل پر واپس آ رہی تھی۔ جرمن اور یورپی اخبارات کے مطابق لاپتا ہوجانے کے اگلے روز ماریہ کی لاش دریائےDreisam سے مل گئی۔

ماریہ کی تلاش کے دوران دریا کے پاس ایک درخت کے نیچے ماریہ کے بالوں کا ایک گچھا اور اس کا مخصوص اسکارف مل گیا تھا۔ تجزیے کے نتائج کے مطابق اسکارف پر ماریہ کے قاتل کاDNA پایا گیا۔ اس کی مدد سے سکیورٹی حکام باریک بینی سے اپنا کام کرتے ہوئے قاتل تک پہنچ گئے اور اس کو گرفتار کر لیا۔ کم عمر افغان نے گذشتہ جمعے کو صرف ماریہ پر قابو پانے کا اعتراف کیا تھا اور پھر اگلے روز حکام نے مجرم کے اس اعتراف کا اعلان کیا جس نے جرمن شہریوں کے جذبات کو شدید دھچکا پہنچایا۔

سال گرہ کی شمعیں مقتولہ کے رنج و غم میں روشن کی گئیں۔

غیرمصدقہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ماریہ اپنے قاتل نوجوان کو ذاتی طور پر جانتی تھی کیوں کہ وہ اپنے فارغ اوقات میں شہر میں پناہ گزینوں کی مدد کے لیے سرگرم رہتی تھی۔ ماریہ کے والد ڈاکٹرLadenburger Clemens بین الاقوامی قانون کے ماہر ایڈووکیٹ ہیں۔ انہیں قانونی امور میں یورپی کمیشن کے ڈائریکٹر کا دست راست سمجھا جاتا ہے۔

شدید صدمے سے دوچار باپ اپنی بیٹی کی 20 ویں سال گرہ کی تیاری کے سلسلے میں مصروف تھا جو منگل 6 دسمبر کو منائی جانا تھی۔ ماریہ کے لاپتا ہونے کے دس روز بعد جرمنی کے مقامی اخبارFrunkfurter Allgemeine میں ماریہ کے والد کی جانب سے ایک اشتہار شائع کرایا گیا۔ اس میں ڈاکٹر لیڈن برگر کا کہنا تھا کہ وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ جو شمعیں ان کی بیٹی کو اپنی سال گرہ کی تقریب میں پھونک مار کر بجھانا تھیں وہ ہی ان کی بیٹی کی موت کے بعد رنج و غم کے اظہار کے لیے جلائی جائیں گی۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ افغان نوجوان نے اسی شہر میں نومبر میں ایک دوسری 27 سالہ لڑکیGruber Carolin کو بھی زیادتی کا شکار بنا کر قتل کر ڈالا۔ کیرولن پیدل چلنے کی ورزش کے لیے گھر سے نکلی تھی اور پھر 10 نومبر کو اس کی لاش ہی مل سکی جو شہر میں ایک چھوٹے سے جنگل میں پھینک دی گئی تھی۔ دُہرے قتل کی اس کہانی نے جرمن شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور مقامی میڈیا میں اب بھی نمایاں ترین موضوع یہ کہانی ہے۔

1