.

ایران:احتجاج کے بعد باسیج ملیشیا کا سربراہ سبکدوش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں جامعات کے طلباء کے وسیع پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے باسیج ملیشیا کے سربراہ جنرل محمد رضا نقدی کو ان کے عہدے سے ہٹا کر بریگیڈیئر غلام حیسن غیب بور کو باسیج ملیشیا کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں یہ احتجاجی مظاہرے ’یوم طالب‘ کی مناسبت سے چھ دسمبر سے جاری ہیں۔ احتجاجی مظاہروں نے ہزاروں طلباء نے باسیج ملیشیا کے سربراہ کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔

طلباء نے الزام عاید کیا ہے کہ جنرل رضا نقدی سنہ 1998ء میں طلباء تحریک کو کچلنے میں پیش پیش رہے ہیں۔ اس کے بعد بھی طلباء کی پرامن سرگرمیوں پر پابندی، طلباء رہ نماؤں کی پکڑ دھکڑ اور نہتے طلباء کو جیلوں میں ڈالنے میں ملوث رہے ہیں، جس پر جامعات کے طلباء میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ یورپی یونین نے سنہ2013ء کو جنرل محمد رضا نقدی کو ایرانی رجیم کے 32 دیگر اہم عہدیداروں سمیت بلیک لسٹ کردیا تھا۔ ان پر سنہ 2009ء میں صدارتی انتخابات کے بعد تحریک سبز انقلاب کے احتجاجی مظاہرین کو کچلنے اور دوران حراست قیدیوں کو اذیتیں دینے سمیت کئی دوسرے الزامات عاید کیےگئے تھے۔ سبکدوش ہونے والے جنرل رضا نقدی ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب میں کلیدی عہدوں پر تعینات رہے ہیں۔ ان کا شمار ایران کے شدت پسند عناصر میں سرفہرست عسکری لیڈروں میں ہوتا ہے۔