.

''خلیجی ممالک میں سکیورٹی تعاون اور مشترکہ دفاع بڑی کامیابی ہے''

بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد کی العربیہ نیوز چینل سے خصوصی گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بحرین کے ولی عہد شہزادہ سلمان بن حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے کہا ہے کہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رکن ممالک کے درمیان شورش زدہ خطے میں سکیورٹی تعاون اور مشترکہ دفاع ایک بڑی کامیابی ہے۔

انھوں نے یہ بات العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ترکی الدخیل سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہے۔ جمعرات کو نشر ہونے والے اس انٹرویو میں شہزادہ سلمان نے بتایا کہ جی سی سی کے رکن ممالک بیلسٹک میزائلوں کے خلاف ایک دفاعی حصار کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل ایک مضبوط واحد بلاک بن چکی ہے اور اس کے رکن چھے ممالک علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر واحد مشترکہ موقف اپناتے ہیں اور ان کے مقاصد بھی طریق کار مختلف ہونے کے باوجود ایک ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پندرہ سال قبل خلیجی ممالک میں تجارت کا حجم 15 ارب ڈالرز کے لگ بھگ تھا اور یہ آج بڑھ کر 115 ارب ڈالرز ہو چکا ہے۔

شہزادہ سلمان نے بعض عرب ممالک کی صورت حال کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ ''ریاستی اداروں میں توڑ پھوڑ اور انتشار کی وجہ سے ان ممالک میں فرقہ واریت اور نسلی منافرت کو ہوا ملی۔عدم استحکام ،طوائف الملوکی اور جنگوں کا ماحول پیدا ہوا''۔ ان کا کہنا تھا کہ قومیت یا عرب ازم ہی کے ذریعے اس منافرت اور فرقہ واریت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

بحرینی ولی عہد نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کی اس بات سے اتفاق کیا کہ خلیج کی سکیورٹی برطانیہ کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔انھوں نے اس بات کو آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ تمام یورپی دارالحکومتوں کی سکیورٹی خلیج کی سلامتی سے سے جڑی ہوئی ہے اور اب کسی ملک کے لیے الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اب برطانیہ کی پالیسی پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہوگئی ہے۔

انھوں نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں امریکا اور بحرین کے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں یہ پیشین گوئی کی ہے کہ ''یہ بہترین رہیں گے کیونکہ ہم اس سے پہلے امریکا کے نامزد وزیر دفاع کے ساتھ کام کرچکے ہیں۔ خلیج میں ایسے لوگ موجود ہیں جو نامزد وزیر خارجہ کو بھی جانتے ہیں۔اسی طرح خلیجی عہدہ دار امریکا کی نئی انتظامیہ کی بہت سی شخصیات اور ان کے رویّوں سے بخوبی آگاہ ہیں''۔