برلن: داعش نے ٹرک حملے کی ذمے داری قبول کر لی، پاکستانی رہا
جرمن پولیس کو پاکستانی پناہ گزین کی ٹرک کے کیبن میں موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا
سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے جرمن دارالحکومت برلن میں تباہ کن ٹرک حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے جس کے بعد پولیس نے حراست میں لیے گئے مشتبہ پاکستانی کو رہا کردیا ہے۔
سوموار کی شب ایک ٹرک ڈرائیور نے برلن کے تاریخی قیصر ولہلم میموریل چرچ کے نزدیک واقع بریٹ شیڈ پلاز اسکوائر میں عارضی طور پر بنائی گئی کرسمس مارکیٹ پر اپنی گاڑی چڑھا دی تھی جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک اور اڑتالیس زخمی ہوگئے تھے۔
اس ٹرک کے ڈرائیور کے بارے میں خِیال کیا جاتا ہے کہ وہ کرفرسٹینڈم شاپنگ مال کے ساتھ واقع مارکیٹ میں لوگوں کو کچلنے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا اور ابھی تک کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
داعش نے اپنی نیوز ایجنسی اعماق کے ذریعے جاری کردہ بیان میں اس حملے کی ذمے داری قبول کی ہے جس کے بعد جرمن حکام نے مشتبہ پاکستانی کو رہا کردیا ہے۔
جرمن کے وفاقی پراسیکیوٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''19 دسمبر 2016ء کو برلن کرسمس مارکیٹ پر حملے کے الزام میں گرفتار کیے گئے ملزم کو وفاقی پراسیکیوٹر کے حکم پر رہا کردیا گیا ہے۔فورینزک ٹیسٹوں کے نتائج سے اس مشتبہ شخص کے لاری کے کیب میں جرم کے وقت موجود ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے''۔
اس سے پہلے جرمن وزیر داخلہ تھامس ڈی میزائرے نے اس پاکستانی کو حراست میں لینے کی اطلاع دی تھی اور بتایا تھا کہ وہ جرمنی میں 31 دسمبر 2015ء کو سیاسی پناہ کی تلاش میں آیا تھااور اس کی درخواست ابھی تک زیر غور ہے۔
جرمن حکام نے اس مشتبہ شخص کو برلن کرسمس مارکیٹ کی جگہ سے قریباً دو کلومیٹر دور گرفتار کیا تھا۔اس وقت وہ ٹرک کے ساتھ کھڑا تھا۔تاہم جرمن وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس مشتبہ شخص نے ٹرک حملے میں ملوّث ہونے کی تردید کی ہے اور اس کا کہنا تھا کہ اس کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔