مصر : سعودی عرب کے ساتھ نئی سرحدی حد بندی کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

مصری حکومت نے سعودی عرب کے ساتھ بحری حدود کی حد بندی کی منظوری دے دی ہے اور اس دستاویز کو توثیق کے لیے ایوان نمائندگان کو بھیج دیا ہے۔

مصر اور سعودی عرب کے درمیان از سرنو بحری حد بندی کا معاہدہ آٹھ ماہ قبل طے پایا تھا۔ اس کے تحت مصر نے بحیرہ احمر میں واقع دو جزیروں تیران اور صنافیر کو سعودی عرب کے حوالے کیا تھا۔

مشرق وسطیٰ خبررساں ایجنسی (مینا) کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے بحری حد بندی سے متعلق کنونشن کی منظوری آئینی طریق کار کے عین مطابق ہے۔مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے اپریل میں سعودی عرب کو ان جزیروں کو لوٹانے کے فیصلے کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ مصر نے سعودی عرب کو اس کا حق لوٹایا ہے اور وہ اپنے کسی علاقے سے دستبردار نہیں ہوا ہے۔

مصری حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گذرگاہ خلیج عقبہ کے جنوبی داخلی راستے پر واقع دونوں جزیرے "تيران"اور"صنافير'' سعودی عرب کے ملکیتی تھے۔اس نے 1950ء میں مصر سے ان جزیروں کے تحفظ کے لیے کہا تھا اور ان پر تب سے مصر کا کنٹرول چلا آرہا تھا۔مصر اور سعودی عرب کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت اب یہ جزیرے سعودی ملکیتی ہیں اور ان کی از سرنو حدبندی کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں