.

یورپی یونین اور نیٹو کے رکن ممالک ٹرمپ کے بیان پر سیخ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانوی اخبار ٹائمز اور جرمن اخبار بیلڈ کو دیے گئے بیانات نے یورپی ممالک اور نیٹو کے اتحاد کوغضب ناک کر دیا ہے۔

اتوار کے روز شائع ہونے والے بیانات میں ٹرمپ نے کہا کہ یورپی یونین سے نکل جانے کے فیصلے میں برطانیہ "حق پر تھا"۔ اس کے علاوہ ٹرمپ نے شمالی اطلس کے اتحاد نیٹو کے بارے میں کہا کہ "اس تنظیم کا زمانہ بیت گیا" ہے۔

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر اشٹائنمائر نے کہا ہے کہ نیٹو کو منتخب امریکی صدر کے اس بیان پر تشویش ہے کہ اتحاد کا "زمانہ بیت چکا ہے"۔ اشٹائن مائر نے زور دے کر کہا کہ یہ موقف ٹرمپ انتظامیہ کے نئے وزیر دفاع کے بیان کے مخالف ہے جو انہوں نے کچھ روز قبل واشنگٹن میں اپنی تصدیق کے لیے منعقد اجلاس میں دیا تھا۔

آئندہ امریکی وزیر دفاع اور سابق جنرل جیمس میٹس نے سینیٹ کے اجلاس میں کہا تھا کہ شمالی اطلس کا اتحاد نیٹو امریکا کے لیے "نہایت اہم" ہے۔

جرمن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ "منتخب امریکی صدر کے بیانات نے برسلز میں بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ یہ صورت حال صرف برسلز تک محدود نہیں رہے گی"۔

تاہم جرمن چانسلر کے نائب سیگمار گیبرل کا کہنا ہے کہ یورپ کو چاہیے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یورپی یونین اور نیٹو پر کی جانے والی شدید تنقید کا مقابلہ کرنے میں "بھروسے" کا اظہار کرے۔

جرمن اخبار "بیلڈ" کو دیے گئے بیان میں گیبرل نے واضح کیا کہ " ٹرمپ کی جانب سے جو کچھ کہا گیا ہے بالخصوص نیٹو اور یورپی یونین کے حوالے سے.. میں اس کی اہمیت کو کم نہیں کر رہا ہوں تاہم تھوڑے سے بھروسے کا اظہار اس طرح کی صورت حال میں ہمارے لیے فائدہ مند ہوگا"۔

دوسری جانب فرانسیسی وزیر خارجہ جان مارک آئرولٹ کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے نکل جانے کے حوالے سے امریکی صدر کے بیان کا بہترین جواب یہ "یورپی ممالک کی یک جہتی" ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں تحمل کے ساتھ نئے امریکی وزیر خارجہ ريكس ٹیلرسن کے منصب سنبھالنے کا انتظار کر رہا ہوں تاکہ ان سے ملاقات میں مل کر مرکزی نقاط کو زیر بحث لایا جائے۔" ان میں روس کے ساتھ تعلقات کا مستقبل، یوکرین کا مسئلہ اور ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کا مستقبل شامل ہیں۔