.

رفسنجانی کی موت نے ایرانی رجیم کا انجام قریب کردیا: رجوی

ایران میں انسانی حقوق کی پامالی باعث تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اپوزیشن کی نمائندہ اورولایت فقیہ کے نظام کے خلاف سرگرم قومی مزاحمتی کونسل کی خاتون سربراہ مریم رجوی نے کہا ہے کہ آیت اللہ خمینی کے دست راست [سابق صدر] علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی موت نے ایران میں ملائیت کی حکومت کو اپنے انجام کے قریب کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مریم رجوی نے ان خیالات کا اظہار فرانس کے صدر مقام پیرس منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ یہ کانفرنس پیرس میں ’مشرق وسطیٰ میں تبدیلیوں پر فرانس اور یورپ کا موقف‘ کے عنوان سے منعقد کی گئی تھی جس میں فرانسیسی سیاست دانوں، ارکان پارلیمنٹ، انسانی حقوق کے مندوبین اور ایرانی اپوزیشن کی قومی مزاحمتی کونسل کی چیئرپرسن مریم رجوی سمیت دسیوں اہم شخصیات نے شرکت کی۔ کانفرنس میں شام، یمن اور دوسرے عرب ممالک کے مندوبین بھی موجود تھے جنہوں ںے یمن میں حوثی باغیوں اور شام میں صدر بشارالاسد کے جرائم پربھی روشنی ڈالی۔

مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں مذہبی حکومت مشرق وسطیٰ میں جنگجو، بحرانوں اور عدم استحکام کی ذمہ دار ہے۔ کانفرنس میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ ایرانی رجیم کو نکیل ڈالنے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

مقررین نے فرانسیسی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ شام اور عراق میں موجود ایرانی پاسداران انقلاب اور دیگر ایران نواز گروپوں کو ان ملکوں کو نکال باہر کرنے کے لیے اقدامات کرے۔

اس موقع پر فرانسیسی رکن پارلیمنٹ بریگیٹ آلان نے کہا کہ ایران میں مذہبی حکومت نے بنیادی انسانی حقوق پامال کر رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں بنیادی شہری اور انسانی حقوق پرعاید قدغنیں باعث تشویش ہیں۔ ایران میں روزانہ معصوم اور بے گناہ شہریوں کو ظالمانہ طریقوں سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مریم رجوی نے کہا کہ رفسنجانی کی موت نے ایرانی رجیم کے بدترین انجام کو اور قریب کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رفسنجانی کی موت سے ایرانی رجیم کا ایک اہم ستون گر گیا ہے۔