.

سعودی عرب: ایک ہی خاندان کے 6 افراد پر مشتمل دہشت گرد گروپ کا خاتمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرق میں واقع ضلع قطیف میں حسین الفرج کی گرفتاری کے بعد سکیورٹی حکام نے مطلوب افراد پر مشتمل گروپ کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اس گروپ میں شامل 6 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ گروپ کا ہیڈ کوارٹر قطیف ضلع کے قصبے العوامیہ میں تھا۔ گروپ میں شامل رہنے والے چھ افراد کے نام یہ ہیں:

حسين محمد علي الفرج : وزارت داخلہ کے مطابق یہ دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کے حوالے سے مطلوب تھا۔ ان میں قطیف ضلع میں بے قصور افراد پر فائرنگ شامل ہے۔

محمد علی عبدالرحيم الفرج : وزارت داخلہ کی کو سکیورٹی کے حوالے سے مطلوب 23 افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ یہ حال ہی میں گرفتار کیے جانے والے حسین الفرج کا باپ ہے۔

محمد علی قطیف میں ہنگامہ آرائی، ٹریفک کی آمد و رفت میں خلل ڈالنے، سرکاری اور نجی املاک کو تباہ کرنے، غیر قانونی اسلحہ رکھنے ، شہریوں اور سکیورٹی اہل کاروں پر اندھادھند فائرنگ کرنے اور شہریوں کو ڈھال بنانے کی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

عبدالرحیم علی عبدالرحیم الفرج : 1437 ھ میں العوامیہ قصبے میں اپنے گھر پر تلاشی کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ متعدد جرائم میں ملوث رہا ان میں سکیورٹی فورسز پر فائرنگ اہم ترین ہے۔ اس کی کارروائیوں میں بعض سکیورٹی اہل کار شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ عام شہریوں اور املاک عامہ پر حملوں کے ساتھ ساتھ مسلح لوٹ مار کی سرگرمیاں بھی انجام دیں۔ اس کے قبضے سے متعدد آتشی ہتھیاروں کے علاوہ بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔

ماجد علی عبدالرحيم الفرج: سکیورٹی حکام کو مطلوب ہے تاہم اس نے خود کو حوالے نہیں کیا۔ سکیورٹی حکام ابھی تک اس کے تعاقب میں ہیں۔ وہ اپنے بھائِ عبدالرحیم کے ساتھ متعدد دہشت گرد مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہے۔ ان میں سکیورٹی اہل کاروں پر فائرنگ اور مسلح لوٹ مار شامل ہے۔

سلمان علی سلمان الفرج : وزارت داخلہ کو انتہائی مطلوب 23 دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے۔ سکیورٹی ادارے ابھی تک اس کا تعاقب کر رہے ہیں۔ یہ اپنے بھائی عبدالرحیم کے ساتھ متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔

علي بن احمد الفرج : یہ سکیورٹی فورسز کی ایک سابقہ کارروائی میں پہلے ہی اپنے ایک عزیز حسين مدن الفرج کے ساتھ ختم کیا جا چکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق محمد الفرج "بڑا"، عبدالرحيم الفرج اور ماجد الفرج بھائی ہیں۔ حسین الفرج ان کا بھتیجا (محمد کا بیٹا ہے) ہے۔ ان کا ایک چچا کا بیٹا پہلے ہی سکیورٹی کارروائی میں مارا گیا اس کا نام عليی احمد الفرج ہے۔

الفرج خاندان العوامیہ قصبے کے علاقے المسورہ میں رہتا ہے۔ مشرقی صوبے کے سکریٹریٹ نے کچھ عرصہ قبل اس علاقے کو ختم کرنے اور اس کی جگہ ایک ترقیاتی منصوبہ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جو اسے العوامیہ قصبے کے لیے خدمات کی فراہمی کا علاقہ بنا دے گا۔

مشرقی صوبے کے سکریٹریٹ کے ترجمان نے واضح کیا کہ مذکورہ علاقے میں عمارتیں 100 برس تک پرانی ہیں اور یہاں کئی گھر غیر قانونی طور پر بنائے گئے جن کی وجہ سے علاقے کے دیگر سکونت پذیر لوگوں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے۔