.

سعودی وزیرخارجہ ٹرمپ انتظامیہ سے بہتر تعلقات کے لیے پُرامید

شامی بحران کاحل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مبنی ہونا چاہیے: عادل الجبیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کے ساتھ روابط کے حوالے سے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں میں مضبوط تعلقات استوار ہیں اور ان کا ملک امریکی عوام کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔

وہ منگل کے روز دارالحکومت الریاض میں اپنے فرانسیسی ہم منصب ژاں مارک آیرو کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی نئی کابینہ سے مل جل کر کام کرنے اور ان سے تعاون کے منتظر ہیں اور اس سلسلے میں پُرامید ہیں۔انھوں نے خطے میں امریکا کی واپسی اور اپنا کردار مضبوط بنانے کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا کی عدم موجودگی سے ایک خلا پیدا ہوگیا تھا اور اس کو تخریبی قوتیں پُر کرنے کی کوشش کررہی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان داعش کے خلاف جنگ اور خطے کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے ایران کی تخربی سرگرمیوں کو محدود کرنے سمیت مختلف امور پر مکمل اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے چھے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے بارے میں ہمارا موقف بڑا واضح ہے اور وہ یہ کہ ایران کو اس کی حقیقی روح کے مطابق پاسداری کرنی چاہیے۔انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم امریکا کی نئی انتظامیہ کے ساتھ ایران کی خطے کے ملکوں میں مداخلت کو محدود کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔

سعودی وزیر خارجہ شام میں جاری بحران کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور جنیوا اول اعلامیے پر مبنی ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ آستانہ میں بات چیت میں شام میں جنگ بندی کے لیے ایک ایسا میکانزم وضع کیا جانا چاہیے جس سے جنیوا میں مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکے۔