.

شاہ سلمان اور ڈونلد ٹرمپ کے درمیان دو طرفہ امور پر ٹیلیفونک بات چیت

دونوں رہ نماؤں میں شام میں محفوظ زون اور ایرانی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں دو طرفہ تعاون اور اہم عالمی وعلاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شاہ سلمان اور امریکی صدر کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک مکالمے کے دوران شام میں پناہ گزینوں کے لیے محفوظ زون کے قیام، یمن میں جاری جنگ اور خطے میں ایرانی سرگرمیوں پر بات چیت کی گئی۔

ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران دونوں دوست ملکوں کے درمیان تعلقات اور تعاون کے فروغ کی ضرورت سے اتفاق کیا گیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی شراکت بڑھانے اور اقتصادی، سیکیورٹی اور عسکری میدانوں میں دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے سے بھی اتفاق کیا گیا۔

دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ، انتہا پسندی، دہشت گردوں کی فنڈنگ کی روک تھام، خطے میں امن واستحکام اور دوسرے ممالک کے اندرونی امور پربھی بات چیت کی گئی۔

خادم الحرمین کی ڈونلڈ ٹرمپ کو سعودی عرب کی اور ٹرمپ نے انہیں امریکا کے دورے کی دعوت دی۔ دونوں رہ نماؤں نے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے سے اتفاق کیا۔

درایں اثناء وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شاہ سلمان نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام اور یمن میں محفوظ زون کے قیام کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور امریکا مسلسل خانہ جنگیوں کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے شہریوں کی بحالی کے لیے موثر کوششیں جاری رکھنے اور داعش کی سرکوبی کے لیے مل کر کوششیں کرنے کے لیے تیار ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاہ سلمان کو یقین دلایا کہ ان کا ملک عرب خطے میں ایرانی مداخلت اور عدم استحکام پیدا کرنے کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کے لیے تیار ہے۔

بیان کے مطابق شاہ سلمان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان سعودی عرب کی جانب سے تیار کردہ اقتصادی ویژن 2030ء پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔