.

متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بیلسٹک میزائل تیار کیے : ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب کمانڈر جنرل حسين سلامی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے ایسے بیلسٹک میزائل تیار کر لیے ہیں جو متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اعلان ایسے وقت م یں سامنے آیا ہے جب کہ امریکی کانگریس ایران کے متنازع بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے نزدیک شمار کی جانے والی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق اتوار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلامی کا کہنا تھا کہ ایران ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو متحرک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے بیلسٹک میزائلوں کی ٹکنالوجی رکھتے ہیں۔

سلامی نے باور کرایا کہ پاسداران انقلاب کی فورسز نے ڈرون طیاروں کی تیاری ، سائبر جنگ اور بیلسٹک میزائلوں کے میدان میں کامیابیوں کو یقینی بنایا ہے۔ سلامی نے مزید کہا کہ " ہمارے دشمن ہمارے خلاف خاص اور پیچیدہ نوعیت کے طریقہ کار اور ٹکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مقابل ہمیں بھی اس میدان میں جدت پر مبنی حل ایجاد کرنے کی ضرورت ہے"۔

آئندہ امریکی پابندیاں

دوسری جانب امریکی سینیٹ میں گزشتہ منگل کے روز 3 ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف غیر نیوکلیئر پابندیوں سے متعلق ایک نیا ایکٹ پیش کیا ہے۔ اس کا سبب ایران کی جانب سے دہشت گردی کی سرپرستی اور ممنوعہ بیلسٹک میزائل سے متعلق خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔

یہ ایکٹ ماركو روبيو ، جان كورنِن اور ٹیڈ ینگ نے تیار کیا ہے۔ ایکٹ کا مقصد دہشت گردی کی سپورٹ اور بیلسٹک میزائل سے متعلق ایرانی پروگرام کی پیش رفت میں ملوث ایرانی شخصیات اور اداروں کے خلاف سخت نوعیت کی مالی اور اقتصادی پابندیاں عائد کرنا ہے۔ ان اداروں میں ایرانی پاسداران انقلاب سر فہرست ہے۔

انڈیانا ریاست سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ینگ نے باور کرایا کہ ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائلوں کے حوالے سے پیش رفت خطے میں امریکا کے حلیفوں اور امریکی افواج کے علاوہ یہاں تک کہ امریکی سرزمین کے لیے بھی خطرہ ہے۔

ایران نے میزائلوں کی تیاری میں اضافہ کر دیا

ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام فضائیہ کے سربراہ جنرل امیر علی حاجی زادہ نے 6 دسمبر کو اعلان کیا تھا کہ " ایرانی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل علی خامنہ ای کی ہدایت پر بیلسٹک میزائلوں کے نشانے کی درستی اور اس کی تیاری میں اضافہ کر دیا گیا"۔

اقوام متحدہ کی قرار داد 2231 کے تحت ایران کے بیلسٹک میزائل کے تجربات کرنے ، دور مار کرنے والے یا نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت کے حامل میزائلوں کی تیاری پر پابندی عائد ہے۔

تاہم اس کے باوجود ایرانی چیف آف اسٹاف نے گزشتہ نومبر میں اعلان کیا تھا کہ شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام میزائل تیار کرنے والے کارخانے بنائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران نے کم از کم 4 بار نیوکلیئر وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کے تجربات بھی کیے ہیں۔

ایرانی میزائل خطے میں اس کی ملیشیاؤں کے پاس

ایرانی میزائل کے خطرات محض بیلسٹک تجربات کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ عملی طور پر شام میں استعمال کیا گیا۔ ان میزائلوں کو بشار حکومت کو فراہم کیا گیا جس نے ان کے ذریعے شہریوں کو نشانہ بنایا اور شامی عوام کو بے دردی سے قتل کیا۔ اسی طرح یمن میں حوثی باغیوں اور لبنان میں حزب اللہ کی ملیشیا کو بھی یہ میزائل فراہم کیے گئے۔