.

سعودی عرب ہمارا تزویراتی شراکت دار ہے: انڈونیشی صدر

شاہ سلمان کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انڈونیشی صدر جوکو وِدودو نے کہا ہے کہ سعودی عرب ان کے ملک کا تزویراتی شراکت دار ہے۔شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دورے کے موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوطرفہ تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے جائیں گے۔

انھوں نے یہ باتیں العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ترکی الدخیل کے ساتھ شاہ سلمان کے دورے کے آغاز پر ایک خصوصی انٹرویو میں کہی ہیں۔انھوں نے انڈونیشیا اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات ،دہشت گردی کے خلاف جنگ ،انڈونیشیا کی سیاست اور معاشرت اور اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ان کے العربیہ نیوز سے انٹرویو کی تفصیل سوال وجواب کی شکل میں قارئین کی نذر ہے:

العربیہ : انڈونیشیا میں عرب اور مسلم تاجروں نے صدیوں قبل اسلام کو متعارف کرایا تھا۔آج انڈونیشیا کے عربوں کے ساتھ تعلقات کو آپ کیسے بیان کریں گے؟ کیا آپ کی خارجہ پالیسی میں عربوں کے لیے کوئی جگہ ہے؟آپ سے یہ سوال اس لیے پوچھا جارہا ہے کیونکہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ 1980ء کے عشرے میں انڈونیشیا اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات آج کی نسبت زیادہ مضبوط تھے۔

صدر جوکو وِدودو: انڈونیشیا سعودی عرب کو اپنا تزویراتی شراکت دار سمجھتا ہے۔وہ اسلام کو دنیا میں امن و آشتی کے دین کے طور پر پیش کررہا ہے۔ ہم انڈونیشیا اور سعودی عرب کے درمیان بالخصوص سرمایہ کاری ،ثقافت ،تعلیم اور سیاحت کے شعبوں میں مزید مضبوط تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں۔انڈونیشیا دنیا میں سب سے زیادہ مسلم آبادی کا ملک ہے۔اس لیے ہم دونوں ملکوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

العربیہ : جناب صدر! خادم الحرمین الشریفین انڈونیشیا کے سرکاری دورے پر ہیں۔یہ گذشتہ چھیالیس سال میں کسی سعودی حکمراں کا اس ملک کا پہلا دورہ ہے۔آپ اس کا کیسے جائزہ لیتے ہیں؟

صدر جوکو وِدودو: یہ ایک تاریخی دورہ ہے اور شاہ فیصل بن عبدالعزیز کے بعد خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز انڈونیشیا کے دورے پر آئے ہیں۔ان کے وفد میں دس وزراء بھی شامل ہیں۔اس سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

العربیہ : جناب صدر ! انڈونیشیا اور فرانس میں داعش کے حملوں کے بعد آپ کا فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے موازنہ کیا جاتا رہا ہے۔ انھوں نے تو یہ کہا تھا کہ ان کا ملک حالت جنگ میں ہے اور آپ نے ایک ہیش ٹیگ ’’ہم خوف زدہ نہیں‘‘ کا آغاز کیا تھا۔کیا آپ واقعی داعش سے خوف زدہ نہیں؟

صدر جوکو وِدودو: انڈونیشیا ایک عظیم ملک ہے۔جکارتہ میں دہشت گردوں کے بم حملے کے فوری بعد میں اس جگہ گیا تھا۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ ہم خوف زدہ نہیں ہیں تو میرا کہنے کا یہ مطلب ہے کہ انڈونیشی معاشرے کو دہشت گردی سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دہشت گرد لوگوں کو خوف زدہ اور دہشت زدہ کرنا چاہتے ہیں۔اگر لوگ دہشت زدہ ہوجاتے ہیں اور ریاست بھی خوف زدہ ہوجاتی ہے تو یہ ناکامی کی علامت ہوگی۔

العربیہ : جناب صدر! تنازعات کی جگہوں میں دہشت گردی میں ملوث انڈونیشی شہریوں سے آپ کیا معاملہ کرتے ہیں؟ ان کے خلاف کیا اقدامات کیے جارہے ہیں،کیا انھیں ملک سے بے دخل کردیا جائے گا؟

صدر جوکو وِدودو: وہ انڈونیشی شہری ہیں۔ان کے معاملے میں بھی انصاف کیا جانا چاہیے۔ہم نے ان سے نمٹنے کے لیے دو طریقے اختیار کیے ہیں۔ایک قانونی طریقہ اور ایک ثقافتی اور مذہبی طریق کار۔ انڈونیشیا کو اس بات پر بھی فخر ہے کہ یہاں دو اعتدال پسند اسلامی تنظیمیں موجود ہیں۔ ایک نہضۃ العلماء اور دوسری محمدیہ۔ یہ دونوں تنظیمیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں حکومت سے بھرپور تعاون کررہی ہیں۔

العربیہ : انڈونیشیا میں اس وقت چھے ادیان اور مذاہب کے پیروکار اور مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ رہ رہے ہیں۔ان کے اس طرح باہم شیرو شکر ہو کر رہنےمیں کیا راز پنہاں ہے؟

صدر جوکو وِدودو: انڈونیشیا میں چھے ادیان کے ماننے والے لوگ آباد ہیں۔یہ 710 سے زیادہ مقامی قبائل کا ملک ہے اور یہاں 1100 سے زیادہ مقامی بولیاں بولی جاتی ہیں۔ ملک کی یہ متنوع آبادی پنج شیلا یا پانچ اصولوں پر عمل پیرا ہو کر مکمل ہم آہنگی کے ساتھ رہ رہی ہے۔ پنج شیلا ہی ایک ایسا راز ہے جس کی وجہ سے انڈونیشیا میں مختلف ادیان اور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ مکمل امن و سلامتی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

العربیہ : کیا دہشت گردی کے نتیجے میں سیاحت کے شعبے پر اثرات مرتب ہوئے ہیں؟آپ اس شعبے کو کیسے بحال کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کیونکہ ملک کو اس شعبے سے نمایاں آمدن حاصل ہوتی ہے۔

صدر جوکو وِدودو: یہ درست ہے کہ دہشت گردی نے انڈونیشیا میں سیاحت کو متاثر کیا ہے لیکن یہ اثرات کوئی دیرپا نہیں رہے تھے۔ سنہ 2015ء میں سیاحوں کی تعداد ایک کروڑ چالیس لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔گذشتہ سال انڈونیشیا میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ غیرملکی سیاح آئے تھے۔اس سلسلے میں اشتہار بازی اور میڈیا کا کردار بڑا اہم ہے۔انڈونیشیا ایک پُر امن اور محفوظ ملک ہے۔اس کے سیاحتی مقامات کی خوب صورتی کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں توقع ہے کہ آیندہ برسوں میں مزید عرب سیاح اور خاص طور پر سعودی شہری سیاحت کی غرض سے انڈونیشیا آئیں گے۔

العربیہ : انڈونیشیا میں سوہارتو کے اقتدار کے خاتمے کے بعد جمہوریت نے کیا حاصل کیا ہے؟

صدر جوکو وِدودو: اب انڈونیشیا ایک زیادہ جمہوری ملک ہے۔ انڈونیشی عوام زیادہ باخبر اور سیاست سے آگاہ ہیں۔ گذشتہ سال 195 علاقائی انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ کنزوریٹوز کے لیے 1011 انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔ ہر چیز احسن طریقے سے چل رہی ہے۔جمہوری انتخابات کے نتیجے میں عوام نے جوکو وِدودو ایسے ایک عام شخص کو ملک کا صدر منتخب کیا تھا۔

العربیہ : جناب صدر! آپ پہلے ایک کاروباری تھے۔پھر آپ نے سیاست میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا اور ملک کے صدر بن گئے۔آپ نے کس لمحے سیاست میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا تھا؟

صدر جوکو وِدودو : میں نے کوئی اٹھارہ سال تک اپنا ذاتی کاروبار کیا تھا۔میں سولو شہر کا دو مرتبہ گورنر منتخب ہوا تھا۔پھر میں نے جکارتہ کے گورنر کا انتخاب لڑا اور جکارتہ ریجن کا گورنر منتخب ہو گیا۔اس کے بعد میں نے صدر کا انتخاب لڑا۔لوگوں نے مجھ پر اعتماد کیا اور میں ملک کا صدر بن گیا۔

العربیہ : اوائل عمری میں کیا آپ نے کبھی سوچا تھا کہ ایک روز آپ ملک کے صدر بن جائیں گے؟

صدر جوکو وِدودو : میں نے تو گورنر بننے کا بھی خواب نہیں دیکھا تھا جمہوریہ کا صدر منتخب ہونا تو بہت دور کی بات ہے کیونکہ میرا عام طبقے سے تعلق ہے اور اس چیز کا مجھے بالکل ابتدا سے ہی احساس تھا۔