.

پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے مطالبے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین کے ایک سابق رکن اسٹرون اسٹیونسن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔ اسٹیونسن 2009 سے 2014 تک یورپی یونین میں عراق کے ساتھ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ رہے۔

یہ مطالبہ امریکی ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اس امر کی تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے کہ کانگریس میں ایک قرار داد کا مسودہ زیر غور ہے جس میں امریکی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا گیا ہے ایرانی پاسداران انقلاب کی ملیشیاؤں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

اسٹیونسن کا کہنا ہے کہ " ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام عراقی ملیشیائیں خطے کے عوام کے قتل میں ایران کے فرقہ وارانہ ایجنڈے پر عمل درامد کے واسطے.. عراقی حکومت کے وسائل اور امریکی اسلحے سے فائدہ اٹھا رہی ہیں"۔

اسٹیونسن کے مطابق یہ ملیشیائیں داعش کے خلاف جنگ کے بہانے عراق کے حساس علاقے تلعفر پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ پاسداران انقلاب کے لیے شام ، لبنان اور بحیرہ روم تک کے لیے تزویراتی راستے کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے عراق میں حرکۃ النجباء ملیشیاؤں کے ترجمان ہاشم موسوی کے 8 مارچ کے بیان کا حوالہ بھی دیا جس میں کہا گیا تھا کہ "ہم 4 برس سے شام میں موجود ہیں اور دہشت گردوں کو باہر نکال کر ہی وہاں سے جائیں گے"۔ دہشت گردوں سے موسوی کی مراد شامی اپوزیشن تھی۔

اسٹیونسن کے بیان کے مطابق یہ گروپ اعلانیہ طور پر ایران سے تربیت ، اسلحہ اور عسکری مشاورت حاصل کر رہے ہیں اور ان کے ایرانی قُدس فورس کے بدنامِ زمانہ کمانڈر قاسم سلیمانی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

واضح رہے کہ موسوی ترکی ، عراقی کردستان کی حکومت اور موصل میں عراقی عوامی فورسز کو بھی دھمکی دے چکے ہیں۔

"یوروپیئن عراقی فریڈم ایسوسی ایشن" کے سربراہ اسٹران اسٹیونسن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "شامی اور عراقی عوام کی اجتماعی نسل کشی میں فعال طریقے سے شرکت کے یہ گونج دار اعترافات اس امر کی ضرورت کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایرانی نظام اور پاسداران انقلاب کو خطے سے نکال باہر کیا جائے اور پاسداران کے زیر انتظام دہشت گرد گروپوں کو بلیک لسٹ قرار دے کر انہیں تحیل کیا جائے"۔

بیان میں سلامتی کونسل ، اقوام متحدہ ، امریکا اور یورپی یونین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس خطرے پر روک لگانے اور خطے میں بحران کے حتمی حل تک پہنچنے کے واسطے درجِ ذیل اقدامات کریں :

1۔ ایرانی پاسداران انقلاب اور عراق ، لبنان ، افغانستان ، پاکستان اور یمن میں اس کے زیر انتطام ملیشیاؤں کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

2۔ عراقی حکومت سرکاری بجٹ ، اختیارات اور اسلحے سے فائدہ اٹھانے والی تمام عراقی ملیشیاؤں کو تحلیل کرے۔ بالخصوص ان کے ہاتھوں سے امریکی اور یورپی اسلحہ واپس لیا جائے۔

3۔ ایران نواز فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کے داعش کے خلاف جنگ میں شریک ہونے پر پابندی لگائی جائے۔ ان ملیشیاؤں کو شام اور عراق میں بین الاقوامی اتحاد کی کارروائیوں کے دوران فضائیہ کی معاونت سے فائدہ اٹھانے سے محروم کیا جائے۔